’اب تیر کمان سے نکل چکا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PAK GOV
Image caption 8 نشستوں کے ساتھ ایم کیو ایم پاکستانی سنیٹ کی تیسری بڑی جماعت ہے

ایم کیو ایم نے سینیٹ، قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی سے مستعفی ہونے کی وجہ انصاف نہ ملنا قرار دی ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار خطاب کر رہے تھے تو انھوں نے شکوہ کیا کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور حکومت اور فوج کسی سطح پر ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔

فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں اپنی طویل تقریر کا اختتام یہ شعر پڑھ کر کیا۔

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دل ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تن داغ داغ لٹا دیا مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دُشمناں کو خبر کرو جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا

گو کہ ایم کیو ایم کی جانب سے استعفوں کی دھمکی دیے جانا کوئی نئی بات نہیں لیکن اس مرتبہ تینوں ایوانوں سے چند ہی گھنٹوں میں نکل جانا سب سے بڑی خبر کی صورت میں ابھر کر سامنے آئی ہے۔

کراچی میں پیپلز پارٹی کے علاوہ ایم کیو ایم کی اہم حریف جماعت عوامی نیشنل پارٹی ہے۔

اے این پی کے سینیئر رہنما حاجی عدیل نے بی بی سی سے گفتگو میں اس خبر پر افسوس کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اب تیر کمان سے نکل چکا ہے۔‘

حاجی عدیل نے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے استعفوں کے معاملے کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین نے نیم دلانہ انداز میں استعفے دیے تھے تاہم ایم کیو ایم کا رویہ سنجیدہ ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ جہاں بہت سے معاملات پر ایم کیو ایم کو اپنا رویہ درست کرنے کی ضرورت تھی ہیں بہت سے امور کو حکومت نے نظر انداز کیا جس میں سے ایک کراچی کے معاملے پر ایم کیو ایم کے مطالبے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا قیام بھی تھا۔

حکومتی جماعت کے سینیئیر رہنما ظفر علی شاہ بھی حاجی عدیل سے اتفاق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے۔

’یہ فیصلہ کیسا فیصلہ تھا احمقانہ یا عقلمندانہ یہ تو ایم کیو ایم ہی بتاسکتی ہے، لیکن اب اس پر عملدرآمد ہوچکا ہے اور تیر کمان سے نکل چکا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ کراچی میں رینجرز کا آپریشن دہشت گردوں نہیں بلکہ براہ راست ایم کیو ایم کے حلاف ہو رہا ہے

وہ کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتحابات کے اعلان سے ایم کیو ایم کے اس فیصلے کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔

اگرچہ ان کی جماعت نے پاکستان تحریک انصاف کی اسمبلیوں میں واپسی کے لیے کوشاں رہی تاہم ظفر علی شاہ کہتے ہیں کہ استعفوں کے بعد ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں ہی اسمبلی میں اجنبی ہیں۔

ادھر پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے اپنے پیغام میں حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہ کرے۔

پی پی پی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی سعید غنی بھی سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کے استعفے فوری طور پر منظور نہیں ہونے چاہییں اور کوشش کی جانی چاہیے کہ وہ استعفے واپس لے۔

انہوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کو اس نظام کا حصہ رہنا چاہیے اور جو بھی تحفظات ہیں اس کے لیے ان کے پاس پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی کا فورم موجود ہے، اس پر آ کے بات کرنی چاہیے۔‘

جماعتِ اسلامی کے رہنما فرید پراچہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم نے سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے استعفے دیے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہاں کی عوام اس سے خوش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی کے سپیکر کے سامنے سب سے پہلا استعفیٰ فاروق ستار نے پیش کیا

’وہ استعفے دے رہے ہیں کہ وہ یہ کھیل کئی بار پہلے کھیل چکے ہیں اس بار ان استعفوں کو قبول ہونا چاہیے۔‘

جماعتِ اسلامی کے رہنما کا خیال ہے کہ حکومت کو اس بار ایم کیو ایم کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔ بے شک ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم ہی منتخب ہوا لیکن اسے دباؤ کے حربے چھوڑنا ہوں گے۔‘

اسی بارے میں