افغان مذاکرات دولتِ اسلامیہ کو روکنے میں مدد دیں گے: جواد ظریف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چارہ ماہ کے اندر اندر یہ دوسری بار ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے پاکستان کا دورا کیا ہو

ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ پاکستان کے زیرِ اہتمام افغانستان اور طالبان کے مابین بات چیت خطے میں امن لانے اور خاص کر دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر کا مقابلہ کرنے میں مدد کر سکیں گے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ بات پاکستان کے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔

اس سے قبل سرتاج عزیز نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث پاکستان اور ایران کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون کے زیادہ مواقع ملیں گے۔ انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ 23 اگست کو بھارت میں اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے چار ماہ کے اندر اندر دوسری بار پاکستان کا دورہ کیا ہے۔

حالیہ دورے میں انھوں نے پاکستانی وزیرِ اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی، جن میں سرحد پر بہتر سکیورٹی، تعاون، توانائی، معاشی اور تجارتی شعبوں میں باہمی تعلقات کو بہتر کرنے کی کوششیں جیسے موضوعات شامل تھے۔

اس کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ نے وزیرِ اعظم کے خارجہ اور سکیورٹی امور کے مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ بھی ملاقات کی اور دونوں نے مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔

نیوز کانفرنس کے دوران مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز نے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر پابندیاں ختم ہونے سے ایران اور پاکستان کے مابین معاشی اور تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ’وفود کی سطح پر باہمی تجارتی اور معاشی تعاون میں اضافے پر خاص بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک میں اتفاق ہے کہ ترجیحی تجارتی معاہدے پر مکمل طور پر عمل ہونا چاہیے، اور ایک دوسرے کی منڈیوں تک کسی پابندی کے بغیر رسائی سے بھی باہمی تعلقات کو فروغ ملے گا۔ اور اس بات پر زور دیا گیا کہ توانائی کے شعبے میں، خاص کر ایران پاکستان گیس پائپ لائن کو مکمل کرنے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔‘

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے سلسلے میں کہا کہ پٹرولیم کی وزارتوں کو ابھی کچھ تکنیکی معاملوں پر کام کرنا ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کی وزارتیں مسلسل رابطے میں ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون کے علاوہ سکیورٹی اور ثقافتی تعاون کو بھی دیکھا گیا ہے۔ ’ہم امید رکھتے ہیں کہ خطے کے معاملات کے حوالے سے ہم پاکستان کے ساتھ کام کر سکیں گے، اور یہ تعاون صرف ایران اور پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ شام اور یمن تک ہے، جہاں ہمارا خیال ہے پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔‘

جواد ظریف نے زور دیا کہ اب خطے میں نیا سکیورٹی خطرہ دولتِ اسلامیہ سے ہے۔

’ہم امید رکھتے ہیں کہ پاکستان کی مدد سے ہونے والے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمتی عمل سے تشدد اور شدت پسندی ختم ہو سکے گی، خاص کر افغانستان میں حال ہی میں دولتِ اسلامیہ کے بعض عناصر کے داخلے کے باعث جو تشدد ہو رہا ہے اور دولتِ اسلامیہ کا خطرہ ہم سب کے لیے خطرہ ہے۔ اس ضمن میں ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی توجہ اب خطے میں بہتر تعلقات کی جانب مرکوز ہے۔

’اب جبکہ ہم نے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کر لیا ہے، ہم اب اپنے خطے کے ان مسائل اور امور کو زیادہ توجہ دے سکتے ہیں جو ہمیں متحد کرتے ہیں، جیسے کہ شدت پسندی، تشدد، اور فرقہ واریت سے مقابلہ۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف بھارت کا دورہ بھی کریں گے۔

اسی بارے میں