آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل انتقال کر گئے

Image caption حمید گل جماعت الدعوہ اور اہلِ سنت و الجماعت سمیت دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد دفاعِ پاکستان کونسل کے مرکزی کنوینر بھی رہے

پاکستان کی فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کا انتقال سنیچر کی شب مری میں دماغ کی شریان پھٹنے سے ہوا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تفریحی مقام میں موجود تھے کہ برین ہیمرج کے بعد انھیں مقامی فوجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔

حمید گل کی بیٹی عظمیٰ گل نے اے پی پی کو بتایا کہ ان کی لاش راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ منتقل کی جائے گی جس کے بعد ہی جنازے کا اعلان ہوگا۔

1936 میں سرگودھا میں جنم لینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔

انھیں مارچ 1987 میں اس وقت کے فوجی صدر جنرل ضیا الحق نے جنرل اختر عبدالرحمان کی جگہ آئی ایس آئی کا سربراہ بنایا تھا۔ وہ دو برس تک اس عہدے پر فائز رہے اور یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں سوویت جنگ اپنے اختتامی مراحل میں تھی۔

آئی ایس آئی کی سربراہی کے زمانے میں ہی وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف دائیں بازو اور اس طرف جھکاؤ رکھنے والی جماعتوں کے سیاسی گروپ ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ کے تخلیق کاروں میں بھی شامل رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حمید گل کو افغانستان میں جہاد اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزاحمتی تحریک کا بڑا حامی اور مددگار سمجھا جاتا تھا

1992 میں پاکستانی فوج سے ریٹائر ہونے والے حمید گل کو افغانستان میں جہاد اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزاحمتی تحریک کا بڑا حامی اور مددگار سمجھا جاتا تھا۔

حمید گل پر وکی لیکس کی جانب سے جاری ہونے والی ’خفیہ دستاویزات‘ میں کئی مقامات پر ان پر طالبان کی مدد کا الزام بھی عائد کیا گیا تاہم بی بی سی اردو سے بات چیت میں انہوں نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔

فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر اپنے امریکہ اور بھارت مخالف سخت گیر موقف کے لیے جانے جاتے تھے۔

سنہ 2012 میں وہ جماعت الدعوۃ اور اہلِ سنت و الجماعت سمیت دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد دفاعِ پاکستان کونسل کے مرکزی کنوینر بھی بنے۔

انھوں نے تحریک اتحاد کے نام سے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی تھی تاہم یہ جماعت الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ نہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کے مطابق جنرل حمید گل کے ناقدین انھیں سازشی نظریات پیش کرنے والی ایک ایسی اختباطی شخصیت کے طور پر پیش کرتے تھے جو جمہوری سیاست کا احترام کرنے کے قائل نہیں تھے۔

تاہم ان کے حامیوں کے خیال میں وہ ایک محبِ وطن پاکستانی اور ایک سچے مسلمان تھے۔

اسی بارے میں