حمید گل کو غصہ کیوں آتا تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل گل کو انیس سو اکیانوے میں ڈائریکٹر جنرل ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نامزد کیا گیا مگر انھوں نے اسے کمتر پوسٹنگ سمجھتے ہوئے چارج لینے سے انکار کردیا اور پھر وہ ریٹائر ہوگئے

اگر جنرل ضیا الحق کے اولین نظریاتی ورثا کی فہرست بنائی جائے تو حمید گل کا نام سب سے اوپر ہوگا۔ دونوں کا تعلق آرمرڈ کور سے تھا۔ جنرل ضیا الحق نے جب پانچ جولائی کو اقتدار سنبھالا تو حمید گل بریگیڈئیر تھے۔ جنرل ضیا الحق نے چیف آف آرمی سٹاف بننے سے پہلے ملتان میں قائم جس سیکنڈ سٹرائیک کور کو کمان کیا 1980 میں میجر جنرل حمید گل کو اسی کور میں آرمرڈ ڈویژن کا کمانڈر مقرر کیا۔ بعد ازاں وہ ہیڈ کوارٹر میں ملٹری آپریشنز کے نگراں بھی رہے۔ یہ وہ دور تھا جب افغان مہم عروج پر تھی۔

مارچ انیس سو ستاسی میں جب جنرل اختر عبد الرحمان کو آٹھ برس تک آئی ایس آئی کی سربراہی کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی دی گئی تو افغان جنگ میں تسلسل کی برقراری کے لیے ضیا الحق کی نظروں میں حمید گل ایک فطری متبادل تھے۔ چنانچہ انہیں آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کردیا گیا۔ تب تک سوویت یونین بھی تھک چکا تھا اور افغانستان سے انخلا کی تیاری کررہا تھا۔ مگر لیفٹننٹ جنرل حمید گل کی چشمِ تصور سٹرٹیجک ڈیپتھ کی عینک کے پیچھے سے افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان بہنے والے دریائے آکسس کے پار کی ممکنہ فتوحات دیکھ رہی تھی۔

دس اپریل انیس سو اٹھاسی کو افغان مجاہدین کے لیے مختص اسلحے کے سب سے بڑے ڈپو اوجھڑی کیمپ میں دھماکہ ہوا۔ قطع نظر یہ دھماکہ اندرونی شاخسانہ تھا کہ بیرونی لیکن اس کے سبب امریکہ اپنے دیے گئے اسلحے بالخصوص افغان جنگ کا رخ موڑنے والے سٹرنگر میزائلوں کے آڈٹ سے محروم ہوگیا اور دھماکے کے اثرات سے ایک ماہ کے اندر محمد خان جونیجو کی حکومت بھی اڑ گئی۔

امریکہ اور ضیا رجیم میں پہلی سی محبت کے اردگرد بدظنی کی جھاڑیاں ابھرنے لگیں۔ جنرل حمید گل کا خیال تھا کہ نئی افغان صورتِ حال میں اگر امریکہ اپنا ہاتھ اٹھا بھی لے تب بھی آئی ایس آئی افغانستان میں پاکستان کے سٹریٹیجک مفادات کا مناسب خیال رکھ سکتی ہے۔ ان کے دل میں امریکی ابن الوقتی کا جو کانٹا چبھا وہ تاحیات نہ نکل سکا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ پھلتا گیا۔

اعتماد کا عالم یہ تھا کہ ایک مشن مغربی ہمسائے افغانستان میں جاری تھا تو دوسرا مشن مشرقی ہمسائے بھارت کے پنجاب میں پاؤں پھیلائے ہوئے تھا اور تیسرے مشن کے طور پر افغان فرنٹ سے مستقبلِ قریب میں فراغت پانے والے مجاہدین کو کشمیر میں کھپانے کی تیاری ہو رہی تھی۔

سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر ضیا الحق اور جنرل اختر عبدالرحمان سمیت کئی اعلیٰ افسروں کی فضائی ہلاکت کے نتیجے میں غلام اسحاق خان، نئے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کی سٹرٹیجک تکون وجود میں آئی۔

اس کے نتیجے میں بادل ِ نخواستہ جماعتی بنیادوں پر گیارہ برس کے وقفے سے ہونے والے پہلے عام انتخابات میں ’مثبت نتائج‘ ایجاد کرنے کے لیے بینظیر بھٹو کے دائیں بازو کے مخالفین کو نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) میں پرویا گیا۔ جنرل حمید گل نے ہمیشہ سینہ ٹھونک کر کہا کہ یہ اتحاد انھوں نے تکون کے دیگر دو کونوں کو اعتماد میں لے کر تشکیل دیا۔

(پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی مثال تھی جب ایک ایجنسی کے سربراہ نے ڈھکے چھپے انداز کو خیر باد کہتے ہوئے کھل کے اتنی کامیاب پولٹیکل انجینیئرنگ کی کہ بعد ازاں بینظیر بھٹو کو دیوار سے لگائے رکھنے کے لیے آپریشن مڈ نائٹ جیکال، مہران گیٹ اور پھر دو ہزار دو میں مسلم لیگ ق کی پیدائش میں بھی وہی پولٹیکل انجینیئرنگ کام آئی کہ جس کے بانی حمید گل بقلم خود تھے۔ پھر بھی وہ آخری وقت تک کہتے رہے کہ سیاست کرپشن کا کلب ہے اور جب سیاستداں ملک کے درپے ہوجائیں تو فوج اپنا قومی کردار ادا نہ کرے تو اور کیا کرے۔)

فروری انیس سو نواسی میں جب افغانستان سے سوویت فوج کا انخلا مکمل ہوا تو امریکی سی آئی اے کا اندازہ تھا کہ نجیب اللہ حکومت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں ختم ہوجائے گی۔ لیکن جنرل حمید گل کی خواہش تھی کہ چھ مہینے بھی کیوں؟ چنانچہ انھوں نے بینظیر حکومت کو بریفنگ دی کہ گذشتہ دس برس میں مجاہدین اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ اب وہ کسی بھی بڑے افغان شہر پر آسانی سے قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو نجیب اللہ کے فوجی دستوں کا مورال تیزی سے ختم ہوجائے گا اور پھر ایک کے بعد ایک شہر مجاہدین کے آگے ڈھیر ہوتا چلا جائے گا۔

چنانچہ عسکری ماہرین کی رہنمائی میں عبدالرسول سیاف اور گلبدین حکمت یار کی متوازی حکومت قائم کروانے کے لیے مارچ انیس سو نواسی میں دس ہزار مجاہدین نے جلال آباد چھیننے کے لیے یلغار کردی۔ اگلے ڈھائی ماہ کے دوران تین ہزار مجاہدین کی جانیں گئیں۔ دس سے پندرہ ہزار سویلین ہلاک اور ایک لاکھ کے لگ بھگ دربدر ہوئے مگر جلال آباد پر قبضہ نہ ہوسکا۔ چنانچہ مئی میں جنرل حمید گل سے آئی ایس آئی کا چارج لے کر ملتان کا کور کمانڈر بنا دیا گیا۔ (جلال آباد مہم کی ناکامی نے افغان فوج کا مورال آسمان پر پہنچا دیا اور نجیب اللہ اگلے تین برس تک اقتدار میں رہے)۔

جنرل گل کو انیس سو اکیانوے میں ڈائریکٹر جنرل ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نامزد کیا گیا مگر انھوں نے اسے کمتر پوسٹنگ سمجھتے ہوئے چارج لینے سے انکار کردیا اور پھر وہ ریٹائر ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری نے امریکی جریدے نیوز ویک کو ایک انٹرویو میں کہا کہ حمید گل دہشت گردوں کے سیاسی گرو ہیں

سبکدوشی کے بعد سے تادمِ مرگ وہ عالمی اسلامی جہاد کے پرزور حمایتی رہے۔ افغان مجاہدین کو صلاح مشورے دیتے رہے۔ ان کے بقول نائن الیون کی ذمہ داری اسامہ بن لادن پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ مسلمان دنیا کو تازہ غلام بنانے کے لیے یہ اندرونی سازش تھی۔ جنرل پرویز مشرف کے کھلے مخالف تھے۔ ایک بار جنرل مشرف نے چڑ کر انہیں ’ایک ریٹائرڈ سوڈو دانشور‘ بھی کہہ ڈالا۔ عدلیہ بحالی تحریک میں بھی حصہ لیا اور شدت پسند مذہبی تنظیموں کے اتحاد دفاعِ پاکستان کونسل کی قیادت میں بھی آگے آگے رہے۔

بینظیر بھٹو سے ان کی ڈھکی چھپی دشمنی ریٹائرمنٹ کے بعد کھلی اور دوطرفہ ہو گئی۔ حتیٰ کہ جب بینظیر بھٹو نے اکتوبر دو ہزار سات میں نو برس کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد واپس آنے کا اعلان کیا تو کراچی آمد سے دو روز پہلے انہوں نے جنرل مشرف کے نام خط میں خبردار کیا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ داروں میں ارباب غلام رحیم، چوہدری پرویز الٰہی، بریگیڈئیر اعجاز شاہ اور جنرل حمید گل کلیدی کردار ہوں گے۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری نے امریکی جریدے نیوز ویک کو ایک انٹرویو میں کہا کہ حمید گل دہشت گردوں کے سیاسی گرو ہیں۔ امریکی حکومت نے بھی انھیں القاعدہ اور طالبان سے روابط کے شبہے میں دہشت گردی کی واچ لسٹ میں رکھا۔

حمید گل آخری دن تک چاق و چوبند و متحرک رہے۔ سیاسی سکینڈلوں سے بھر پور مگر ذاتی سکینڈلز سے پاک زندگی گزاری۔ وہ اناسی برس کی عمر میں بھی دیکھنے میں ساٹھ پینسٹھ برس سے زیادہ کے نہیں لگتے تھے۔ نسبی لحاظ سے سوات کے یوسف زئی پشتون تھے جن کا خاندان لگ بھگ سو برس پہلے سرگودھا میں آباد ہوا۔ شاید اسی لیے پشتو سے زیادہ پنجابی پر دسترس تھی۔

ٹویٹر، سوشل میڈیا اور مغربی ذرائع ابلاغ سے چڑتے تھے مگر بی بی سی کے باقاعدہ سامع تھے اور اس بابت رائے بھرے ایس ایم ایس بھی بھیجتے رہتے تھے۔ اپنے نظریات کا کھل کے پرچار کیا تاہم ذاتی یاداشتیں مرتب نہ کرسکے۔ ان کی رخصتی سے پاکستان میں دورِ ضیا کی سیاسی و عسکری تاریخ کا ایک اور متنازع باب بند ہوگیا۔

اسی بارے میں