اٹک: وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ خودکش حملے میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ APP

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام کے مطابق اٹک میں صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں صوبائی وزیر داخلہ سمیت 17 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکومت پنجاب کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر سعید الٰہی نے اتوار کو ضلع اٹک کے گاؤں شادی خان میں شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر ہونے والے اس خودکش حملے میں صوبائی وزیر داخلہ کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

’وہ ایک سیدھی بات کرنے والے سیاستدان تھے‘

پنجاب پولیس کے مطابق اس دھماکے میں 16 دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار نے قبول کی ہے اور ایک بیان میں خودکش حملہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک دوسری تنظیم کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس حملے میں ملوث افراد کو پکڑنے میں مدد کرنے کی ہدایات دی ہیں۔‘

پنجاب پولیس کے سربراہ مشتاق سکھیرا کے مطابق پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اپنے ڈیرے پر اپنے عزیز کی وفات پر تعزیت کے لیے آئے ہوئے لوگوں سے مل رہے تھے کہ اسی موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اُنھوں نے کہا کہ دو خودکش حملہ آور تھے جبکہ دوسرا عمارت کے اندر موجود تھا تاہم پنجاب پولیس کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرا حملہ آور کہاں گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امدادی کارروائیوں میں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری بھی استعمال کی گئی

اُنھوں نے کہا کہ اس حملے میں شدت پسند کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ریجنل پولیس افسر راولپنڈی وصال فخر سلطان راجہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شجاع خانزادہ کے ڈیرے میں جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت وہاں جرگہ ہو رہا تھا اور لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

چھت گرنے کے باعث صوبائی وزیر داخلہ سمیت درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔

پنجاب پولیس کے مطابق ملبے تلے افراد میں شجاع خانزادہ کی سکیورٹی پر مامور ڈی ایس پی حضرو شوکت شاہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مشینری بھی استعمال کی گئی۔

صوبائی وزیر داخلہ کے بھتیجے سہراب خانزادہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت 50 افراد ڈیرے میں موجود تھے۔

حکومت پنجاب نے وزیرِ داخلہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ پاکستان کے وزیرِ اعظم، صدر اور برّی فوج کے سربراہ کی جانب سے بھی شجاع خانزادہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

وزیراعظم محمد نوازشریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں شجاع خانزادہ کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہادر پاکستانی قوم اور شجاع خانزادہ جیسے ہیروز کی قربانیاں بزدل دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گی اور ان کے آخری ٹھکانے تک ان کا پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان کی جانب سے ٹوئٹر پر شائع کیے گئے پیغامات کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ شجاع خانزادہ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اس سے پاکستان کا دہشت گردوں کے خلاف لڑنے اور اس عفریت کے خاتمے کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔

جنرل راحیل شریف کا یہ بھی کہنا تھا دہشت گردوں کی یہ بزدلانہ حرکتیں قوم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار نے قبول کی ہے

صوبہ پنجاب کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کے ایک اہلکار کے مطابق صوبے بھر میں کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے جاری آپریشن کو تیز کرنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کو دھمکیاں زیادہ ملنا شروع ہوگئی تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ چند ہفتے قبل جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں کالعدم تنظیم کے رہنما ملک اسحاق اور دیگر تیرہ افراد کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کو مزید محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

اہلکار کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ نے اپنے آبائی علاقے میں کالعدم تنظیموں کے متحرک ہونے کے بارے میں بھی انسداد دہشت گردی کے محکمے کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد محکمے کے ذمہ داران افراد نے اس علاقے میں کارروائی کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا شروع کردیا تھا۔

اس ضمن میں صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے حکام سے بھی ان تنظیموں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شجاع خانزادہ کا آبائی علاقہ صوبہ پنجاب کی آخری حدود میں واقع ہے جس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کی حد شروع ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں