’پنجاب حکومت سکیورٹی میں خامی سے انکار نہیں کر سکتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حقوقِ انسانی کمیشن نے الزام لگایا ہے کہ شجاع خانزادہ کی حفاظت پر معمور ایلیٹ فورس بھی ان کے پاس موجود نہیں تھی

پاکستان میں حقوق انسانی کے کمیشن نے کہا ہے کہ حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق اپنی حکمت عملی کا از سرے نو جائزہ لینا ہو گا۔

لاہور سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کمیشن نے اٹک دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس خوفناک واقعے کے بعد انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے متعلق کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں۔

’پنجاب حکومت سکیورٹی میں خامی سے انکار نہیں کر سکتی جس کی وجہ سے اتنا بھاری جانی نقصان ہوا۔‘

بیان میں کہا گیا کہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ کو کئی دن سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور اس کے باوجود وہ اتوار کو تقریباً سکیورٹی کے حصار کے بغیر تھے۔

’حتیٰ کہ ان کی حفاظت پر معمور ایلیٹ پولیس سکواڈ وہاں موجود نہیں تھی اور بظاہر اجلاس کی جگہ تک رسائی پر بھی کوئی کنٹرول نہیں تھا۔‘

کمیشن نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کے متعلق اقدامات کی پڑتال کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے سب اقدامات قانون کے مطابق ہونے چاہیئں کیونکہ اس سے کسی بھی قسم کے انحراف سے حکومتی رہنماؤں اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا اور نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسی بارے میں