خانزادہ قتل: نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے میں دوسری تنظیموں کے ملوث ہونے کے بارے میں بھی تحقیقات کر رہے ہیں

راولپنڈی کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے صوبائی وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ اور دیگر پندرہ افراد کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ رانگو پولیس سٹیشن کے سربراہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی، قتل اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

وفاقی یا صوبائی حکومت نے اگرچہ ابھی تک اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل نہیں دی تاہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہدایات کی روشنی میں فوج کے خفیہ ادروں نے اس واقعہ سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

پنجاب کی فورینزک لیبارٹری کے اہلکاروں نے جائے حادثہ سے شواہد اکھٹے کرنے کا بعد اُن کا مشاہدہ کرنے کے لیے اُنھیں لیبارٹری میں بھجوا دیا ہے۔

پنجاب کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کے اہلکاروں نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وزیر داخلہ کی ذاتی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد سے اس واقعہ سے متعلق معلومات بھی حاصل کیں۔

انسداد دہشت گردی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی وزیر داخلہ کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے زیر استعمال موبائیل فون کا ڈیٹا اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ان کی دیگر افراد سے ملاقاتوں سے متعلق بھی ریکارڈ اکھٹا کیا جا رہا ہے۔

اہلکار کے مطابق شجاع خانزادہ کے گھر سے نکل کر ڈیرے پر رکنے کے بارے میں اُن کے ذاتی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے علاوہ اور کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔

اہلکار کے مطابق اس معاملے کی تفتیش کرنے والے اداروں کی نظر میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی پر اس میں ملوث ہونے کے بارے میں سب سے زیادہ شک کیا جارہا ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے دوسری تنظیموں کے اس واقعہ میں ممکنہ طور پر ملوث ہونے کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کر رہے۔

اہلکار کے مطابق اس معاملے کی تفتیش میں صوبائی وزیر داخلہ کے دیگر افراد کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیاسی اختلافات کے پہلو کو سامنے رکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں