مذاکرات منگل کو ’نائن زیرو‘ پر ہوں گے

Image caption ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ’ہر کسی کو نائن زیرو آمد پر خوش آمدید کہا جاتا ہے اور مولانا بھی نائن زیرو آئیں گے تو بات ہوگی‘

متحدہ قومی موومینٹ کے منتخب نمائندوں کی طرف سے احتجاجی استعفوں کے معاملے پر ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان مذاکرات منگل کی صبح نائن زیرو پر ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمن پیر کی شام کراچی پہنچے ہیں۔

ایم کیو ایم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ فریقین رابطے میں ہیں اور سیکیورٹی کلیئرنس کی وجہ سے طے پایا ہے کہ مذاکرات کا پہلا دور منگل کو ہوگا۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مذاکرات کے پہلے دور میں ایم کیو ایم کے ان تحفظات پر بات ہوگی جو استعفوں میں بیان کیے گئےتھے۔

خصوصاً کراچی آپریشن کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل، ایم کیو ایم کا میڈیا ٹرائل بند کرانے اور لاپتہ کارکنوں کو آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کے مطالبات پر بات ہوگی۔

قبل ازیں مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ وہ ایم کیو ایم سے مذاکرات کے لیے نائن زیرو جانے کے لیے تیار ہیں۔

اسلام آباد ائرپورٹ سے کراچی روانگی سے قبل پاکستان کے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اپنی سیاسی زندگی کے 35 برس میں پہلی بار وہ نائن زیرو جا رہے ہیں اور وہ سو فیصد پرامید ہیں کہ ایم کیو ایم ایوانوں میں واپس آجائے گی اور استعفے واپس لے لے گی۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے جو مطالبات ہوں گے اس سے وہ لمحہ بہ لمحہ وزیر اعظم کو آگاہ کرتے رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تمام ادارے بشمول رینجرز وزیر اعظم کے ماتحت ہیں۔

انھوں نے کہا کہ الطاف حسین سے ان کی بات چیت ہوئی ہے اور انہیں کراچی میں آپریشن پر اعتراض نہیں وہ بھی چاہتے ہیں کہ آپریشن ہو مگر ایمانداری سے اور غیرجانبدار ی سے ہو۔

وفاقی وزیر ہاؤسنگ اکرم درانی اور رکن قومی اسمبلی مولانا امیر زمان ، دورے کے دوران مولانا کے ہمراہ ہیں۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذاکرات میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی شرکت کی بھی مخالفت کردی ہے۔

قبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ نے مولانا فضل الرحمن سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا اصرار تھا کہ ملاقات سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ہو جبکہ روایت یہ رہی ہے کہ ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے آنے والے نائن زیرو پر آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہر کسی کو نائن زیرو آمد پر خوش آمدید کہا جاتا ہے اور مولانا بھی نائن زیرو آئیں گے تو بات ہو گی۔‘

امین الحق نے بتایا کہ استعفوں کی واپسی کے لیے ایم کیو ایم نے جو شرائط رکھی ہیں ان پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر اسحاق ڈار اور مولانا فضل الرحمٰن ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطے میں رہے ہیں تاہم اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ایم کیو ایم نے کراچی میں جاری آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پچھلے ہفتے بدھ کو وفاقی پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی کی نشستوں سے استعفے دے دیے تھے۔

ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ رینجرز کی قیادت میں جاری آپریشن میں اسے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر غیراعلانیہ پابندی لگادی گئی ہے اور اس کے 40 سے زیادہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل اور ڈیڑھ سو سے زیادہ کارکنوں کو لاپتہ کر دیا گیا ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

Image caption مسلم لیگ ن اور سندھ کی حکومتی جماعت پیپلز پارٹی دونوں نے ہی ایم کیو ایم سے استعفے واپس لینے کی استدعا کی ہے

مرکز میں حکمران مسلم لیگ ن اور سندھ کی حکومتی جماعت پیپلز پارٹی دونوں نے ایم کیو ایم سے استعفے واپس لینے کی استدعا کی ہے۔ دونوں حکومتوں کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے۔

وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کو منانے کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمٰن کو سونپ رکھی ہے اور پیر کو ان کی ایم کیو ایم کی قیادت سے پہلی باضابطہ ملاقات ہو گی۔

امین الحق نے بتایا کہ پارٹی کے قائد الطاف حسین نے حکومت سے بات چیت کے لیے رابطہ کمیٹی کو اختیار دیا ہے تاہم استعفے واپس لینے یا نہ لینے کے بارے میں کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد تب ہی ہوگا جب الطاف حسین اس کی توثیق کریں گے۔

اسی بارے میں