ایم کیو ایم کے مستعفی ارکان کو واپس لانے کے خلاف پٹیشن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب کوئی شخص یا کوئی ادارہ ایم کیو ایم کے ارکان کو قطعاً کسی صورت میں واپس اجلاس میں یا اسمبلی میں نہیں لا سکتا

پاکستان میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے ایک سینیئر رہنما ظفر علی شاہ نے ایم کیو ایم کی پارلیمان میں واپسی کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی ہے۔

ظفر علی شاہ نے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی پٹیشن کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکانِ قومی اسمبلی، سینیٹ اور سندھ اسمبلی نے 12 اگست کو جس دن اپنے استعفے دیے تھے وہ اسی دن موثر ہو گئے تھے۔

’اب تیر کمان سے نکل چکا ہے‘

خیال رہے کہ 12 اگست کو قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے متحدہ قومی موومنٹ کے 24 اراکین کی طرف سے موصول ہونے والے استعفوں کی تصدیق کر کے ان پر ضابطے کی کارروائی کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا تاہم اس کے اگلے ہی دن وزیراعظم کی سربراہی میں حکومت کے ایک مشاورتی اجلاس میں استعفے قبول نہ کرنے اور اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے ایک مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔

ظفر علی شاہ نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کے استعفے رضاکارانہ اور واضح تھے اور سپیکر کے نام تھے، تو اب اس بعد میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہ کرنے، ان کو منانے اور ان کو روکنے کے سلسلے میں کی جانے والی سرگرمیاں غیر آئینی اور ملکی آئین کو شکست دینے کے مترادف ہیں اور میں نے یہی موقف اپنی پٹیشن میں اختیار کیا ہے۔

’اب کوئی شخص یا کوئی ادارہ ان کو (ایم کیو ایم کے مستعفی ارکان کو) قطعاً کسی صورت میں واپس اجلاس میں یا اسمبلی میں نہیں لا سکتا۔‘

مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایم کیو ایم کو واپس اسمبلی میں لانے کے لیے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔ اس پر ظفر علی شاہ نے کہا: ’ہماری حکومت نے بھی حلف لیا ہوا ہے کہ وہ آئین کے منافی کوئی کام نہیں کرے گی تو اس صورتحال میں مولانا فضل الرحمان یا کسی اور کو کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو منا کر واپس ہال میں لے آئے کیونکہ وہ اب ہال سے باہر ہو چکے ہیں۔‘

وزیراعظم نواز شریف کی ایم کیو ایم کو واپس پارلیمان میں لانے کی پالیسی سے اختلاف سے متعلق ظفر علی شاہ نے کہا: ’میاں نواز شریف کی اگر پالیسی یہ ہے کہ یہاں آئین کے منافی کام ہو گا، پارلیمان چلے گی یا حکمرانی ہو گی تو یقیناً میں اس کا مخالف ہوں۔‘

ظفر علی شاہ نے وزیراعظم کو مشورہ دینے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں مشورہ دینے والے وہ حضرات ہیں جو جنرل مشرف کو غلط مشورے دیتے رہے اور ان سے آئین کی خلاف ورزی کراتے رہے اور آج وہ غداری کا مقدمہ بھگت رہے ہیں۔‘

سپریم کورٹ میں جانے سے پہلے وزیراعظم نواز شریف سے خود اس مسئلے پر بات نہ کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ظفر علی شاہ نے کہا کہ ’میں نے بہت کوشش کی کہ ان سے ملاقات کر لوں، ان سے مشورہ کر لوں، کیونکہ وہ وزیراعظم ہوں یا نہ ہوں لیکن میرے رہنما ہیں مگر وہ اتنے زبردست حصار میں ہی ہیں کہ ان تک ہماری کوئی رسائی نہیں ہے، نہ ٹیلی فون کر سکتے ہیں، نہ ان تک ہماری بات جا سکتی ہے اور نہ ہی ملاقات ہو سکتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے تحریک انصاف کے استعفوں سے متعلق ان کی پٹیشن سپریم کورٹ میں ہے اور اب میں نے اس پٹیشن میں درخواست کی ہے کہ دونوں معاملات کو ملا کر فل کورٹ سماعت کرے کیونکہ کسی حکمراں جماعت، یا حزب اختلاف کی جماعت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ آئین کے پرخچے اڑا دے۔

اسی بارے میں