پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے کا بیٹا بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق ایم این اے سید اخونزادہ چٹان کے بیٹے کو پیر کی صبح سکول جاتے ہوئے گھر کے قریب سے اغوا کرلیا گیا تھا (فائل فوٹو)

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے پیر کے روز اغوا ہونے والے پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے اور سابق صدر آصف علی زرداری کے سیاسی مشیر سید اخونزادہ چٹان کے صاحبزادے کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

گورنر ہاؤس پشاور سے منگل کی صبح جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق ایم این اے کے بیٹے نو سالہ حسین شاہ بازیابی کے بعد بحفاظت گھر پہنچ گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے مغوی کی بازیابی کے لیے ہونے والی کارروائی کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گورنر نے اغوا کاروں کو کیفرکردار تک پہچانے کے لیے کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

ادھر باجوڑ میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مغوی حسین شاہ کو خار کے علاقے میں قبرستان سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار صبح کے وقت سرچ آپریشن کر رہے تھے کہ اس دوران انھیں مغوی طالب علم ایک قبرستان میں روتے ہوئے ملے جس کے بعد انھیں فوری طور پر صدر مقام خار پہنچایا گیا۔

مقامی صحافیوں کے مطابق گذشتہ روز باجوڑ میں طالب علم کے اغوا کے ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر تلاشی کا عمل شروع کر دیا تھا اور ایجنسی کے خارجی اور داخلی راستوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ بعد میں سکیورٹی فورسز نے اغوا کی واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی تھی تاہم ابھی تک انتظامیہ کی جانب سے اغوا کاروں کی گرفتاری کے ضمن میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چند ماہ پہلے اخونزادہ چٹان پر باجوڑ ایجنسی میں قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے

بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالب علم کو تاوان کےلیے اغوا کیا گیا تھا لیکن تاحال مغوی کے خاندان کی جانب سے یا سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سابق ایم این اے سید اخونزادہ چٹان کے بیٹے کو پیر کی صبح سکول جاتے ہوئے گھر کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اخونزادہ چٹان کے بیٹے کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سید اخوانزادہ کا شمار پیپلز پارٹی فاٹا کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ پارٹی کے مرکزی شریک چئیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ان کے قریبی مراسم رہے ہیں اور وہ قبائلی علاقوں کے لیے ان کے سیاسی مشیر بھی رہے ہیں۔ اخونزادہ چٹان قبائلی علاقوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس کے صدر بھی ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ چند ماہ پہلے اخونزادہ چٹان پر باجوڑ ایجنسی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔

قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے قبائلی سرداروں، مشیران، سرکاری اہلکاروں اور ممبران پارلمینٹ پر سینکڑوں مرتبہ حملے ہو چکے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں