پشاور یونیورسٹی میں صحافیوں کی تربیت کے لیے جدید لیب

Image caption پشاور یونیورسٹی کیمپس میں صحافیوں کی تربیت کےلیے تمام تر وسائل موجود تھے تاہم جدید لیب کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی تھی جو اب پوری ہوگئی ہے: پروفیسر ڈاکٹر الطاف اللہ خان

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندی اور دہشت گردی سے متاثرہ صحافیوں کی تربیت کےلیے پشاور یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ اپنی نوعیت کی پہلی جدید لیب قائم کردی گئی ہے۔

اس جدید لیب میں صحافیوں کو غیر ملکی ٹرینرز کی نگرانی میں سکیورٹی، انصاف اور امن سے متعلق جدید عملی تربیت دی جارہی ہے۔

یہ لیب غیر سرکاری برطانوی ادارے ’اعتبار‘ کے تعاون سے شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ پشاور یونیورسٹی میں قائم کی گئی ہے۔ اس میں شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ بحثیت پارٹنر شامل ہیں۔

غیر ملکی ٹرنیرز کی نگرانی میں قائم اس لیب میں فاٹا اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ذرائع ابلاغ کے تمام شعبوں ریڈیو، ٹی وی ، اخبارات اور شوشل میڈیا میں جدید نوعیت کی تربیت اور کورسز کروائے جارہے ہیں۔

یہ جدید لیب حال ہی میں قائم کی گئی ہے جس کے پہلے بیچ کی تربیت کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ پشاور یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر الطاف اللہ خان کا کہنا ہے کہ پشاور یونیورسٹی کیمپس میں صحافیوں کی تربیت کےلیے تمام تر وسائل موجود تھے تاہم جدید لیب کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی تھی جو اب پوری ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جدید لیب ایک نیوم روم کی طرح ہے جو عام طورپر کسی ٹی وی یا اخبار کے دفتر میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں کو بین الاقوامی میڈیا میں استعمال ہونے والے جدید آلات کی مدد سے تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

پروفیسر الطاف اللہ کے مطابق لیب میں صحافیوں کو چھ ہفتوں کے عملی کورسز کرائے جاتے ہیں جس میں زیادہ توجہ سکیورٹی ، انصاف اور امن سے متعلق موضوعات پر دی جارہی ہے تاکہ ان شعبوں میں ان کی تربیت کی جاسکے۔

ان کے بقول یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا جدید لیب ہے جو کسی پبلک سیکٹر کے تعلیمی ادارے میں قائم کیا گیا ہے۔

Image caption صحافیوں کو غیر ملکی ٹرینرز کی نگرانی میں سکیورٹی، انصاف اور امن سے متعلق جدید عملی تربیت دی جارہی ہے

برطانوی ادارے ’ اعتبار’ کے تھیٹر کوارڈنیٹر عاطف افضل نے بتایا کہ جدید لیب کے قیام کا مقصد جنگ سے متاثرہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کی صحافیوں کی سکیورٹی اور قانون سے متعلق شعبوں میں عملی ترییت دینا ہے تاکہ میڈیا کے ذریعے سے امن کو فروغ دیا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 16 صحافیوں کو منتخب کیا گیا ہے جنھیں ڈیڑہ ماہ کے دوران تربیت دی جائیگی جبکہ اس کورس کے اختتام پر صحافیوں کو اسناد بھی دیئے جائیں گے۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں اور خیبر پِختونخوا میں 2004 سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی صحافی فرائض کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والے تقریباً تمام صحافی غیر تربیت یافتہ تھے یا انہوں وہ تربیت حاصل نہیں کی تھی جو جنگ زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کےلیے ضروری ہوتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مرنے والے ان صحافیوں کو اپنے اداروں کی طرف سے تربیت کے مواقعے نہیں فراہم کئے گئے تھے جسکی وجہ سے معمولی غلطیاں ان کی موت کی سبب بنی۔

اسی بارے میں