ایم کیو ایم رہنما رشید گوڈیل قاتلانہ حملے میں شدید زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے رشید گوڈیل کو شناخت کرنے کے بعد فائرنگ کی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے رکنِ قومی اسمبلی رشید گوڈیل کی حالت کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ناامیدی کی کیفیت ختم ہو گئی ہے تاہم ان کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

پانچ برس میں پانچ ارکانِ اسمبلی نشانہ بنے

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ریحان ہاشمی نے منگل کی شب بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ’رشید گوڈیل شوگر اور دل کے مریض تھے۔ ’ان کے دل میں ایک اسٹنٹ پہلے ڈالا جاچکا تھا اور بدھ کو ہی ان کے دل میں مزید دو اسٹنٹ ڈالے جانے تھے کہ ان پر حملہ ہوگیا۔‘

انھوں نے کہا کہ رشید گوڈیل کو اب تک ہوش نہیں آیا ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی امید بندھی ہے کہ ان زندہ رہنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق سینے میں لگنے والی گولی نے ان کے ایک پھیپھڑے کو نقصان پہنچایا ہے اور اگلے 48گھنٹے ان کی صحتیابی کے سلسلے میں بہت اہم ہیں۔

رشید گوڈیل منگل کی صبح بہادر آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ سے نائن زیرو جارہے تھے کہ نیو ٹاؤن کے علاقے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے رشید گوڈیل کو شناخت کرنے کے بعد فائرنگ کی اور اس واقعے میں ان کا ڈرائیور عبدالمتین ہلاک ہوگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ National Assembly
Image caption رشید گوڈیل کو علاقے کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے

حملے کے بعد رشید گوڈیل کو لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا اور ہسپتال کے ترجمان نے کہا ہے کہ رشید گوڈیل کو جبڑے، گردن اور سینے کے پاس پانچ سے چھ گولیاں لگیں اور انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ان کا آپریشن کیا گیا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے اس حملے کو اپنے ارکانِ اسمبلی کے استعفوں کی واپسی کے معاملے پر جاری بات چیت کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا گیا ہے۔

پارٹی رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ رشید گوڈیل پر حملہ کر کے کراچی کے امن کو ہدف بنایا گیا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے اور یہ کھلی دہشتگردی ہے۔

سندھ رینجرز کے ترجمان نے کہا ہے کہ رشید گوڈیل پر حملہ کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے مختلف زاویوں سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے اور حملہ آوروں کو جلد ہی قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔

واقعے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے رشید گوڈیل پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے کے بعد بہادر آباد اور طارق روڈ سمیت بعض علاقوں میں دکانیں بند کر دی گئیں تھیں۔

ادھر متحدہ قومی موومینٹ نے کہا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے منگل کو اسکے پانچ کارکنوں اور ذمہ داروں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ایک کارکن کو اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں کالعدم تنظیم کے مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

ایم کیو ایم کے رہنما رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب ایم کیو ایم کے پارلیمان اور سندھ اسمبلی سے استعفوں کے معاملے پر نائن زیرو پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایم کیو ایم کی قیادت سے مذاکرات کیے ہیں۔

ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ رشید گوڈیل پر حملے کے باوجود مذاکراتی عمل نہیں رکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایم کیو ایم کے اراکینِ قومی اسمبلی استعفے دے چکے ہیں

مذاکرات کے بعد ایم کیو ایم کے فاروق ستار اور مولانا فضل الرحمان دونوں نے رشید گوڈیل پر حملے کو بات چیت کو سبوتاژ کرنے کی ممکنہ سازش کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کہ ’آج جب ملکی اور سیاسی استحکام کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہورہی تھی تو اسی اثنا میں پارلیمان کے رکن پرگھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس پورے عمل کو جو ملکی اور سیاسی استحکام کے لیے کیا جارہا ہے کہیں یہ اسے سبوتاژ کرنے کی سازش نہ ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کریں گے اور اس واقعے کے پیچھے جن لوگوں کا ہاتھ ہے انہیں بےنقاب کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ عین ایسے وقت پر جب کہ ہم خیرسگالی کے جذبے سے ایک بڑے اہم مسئلے کو حل کرنے بیٹھے تھے کہ رشید گوڈیل پر حملے کی انتہائی افسوسناک خبر آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ حملہ اس سارے عمل کو سبوتاژ کرنے کی بڑی بزدلانہ کوشش ہے اور میں ایم کیو ایم کا شکر گزار ہوں کہ اتنے بڑے حادثے کے باوجود انھوں نے اپنے مثبت رویے میں کوئی تبدیلی نہیں لائی اور ملک اور قوم اور ملک کے سیاسی نظام کو بحران سے نکالنے کے جذبے کو برقرار رکھا ہے۔‘

اسی بارے میں