نایاب پرندے تلور کے شکار پر مکمل پابندی کا فیصلہ برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکومت نے نایاب پرندوں کی حفاظت کے معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں لیکن اس کے برعکس غیر ملکی شہزادوں کو تلور کے شکار کا لائسنس جاری کیے گئے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بلوچستان میں تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کرنے سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جبکہ وزارت خارجہ کی طرف سے اس پرندے کے شکار کے لیے غیر ملکیوں کو جاری کیے گئے لائسنس منسوخ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جنگلی حیات کے سیکریٹری کی طرف سے بلوچستان ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

تلور کے شکار کے بارے میں ایک درخواست شہری راجہ فاروق کی طرف سے بھی دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکومت نے نایاب پرندوں کی حفاظت کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں لیکن اس کے برعکس غیر ملکی شہزادوں کو تلور کے شکار کا لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایک روز میں 2100 تلور شکار کیے گئے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس دوست محمد خان نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ ایک روز میں 2100 تلوروں کا شکار کیا گیا، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ایسا نہیں ہو سکتا۔

جسٹس دوست محمد خان نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ حکومت نے عرب شہزادوں کو تلور کے شکار کے لیے عارضی طور پر زمین فراہم کی ہے جبکہ اس کے علاوہ تلور کے شکار کے لیے عارضی طور پر لائسنس بھی جاری کیے ہیں؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت نے خوشی سے اس کی اجازت نہیں دی بلکہ اس کے لیے بیرونی تعلقات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیا کہ ایک شہزادہ کس قانون کے تحت 2100 تلور شکار کر کے لے گیا؟

جس پر بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا بیرون ممالک کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے پاکستان میں قتل وغارت کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ اُنھوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے آنے والے افراد کو پاکستانی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیا کہ ایک شہزادہ کس قانون کے تحت 2100 تلور شکار کر کے لے گیا اور دفتر خارجہ نے کس قانون کے تحت ان عرب شہزادوں کوعارضی طور پر لائسنس جاری کیے؟ اُنھوں نے کہا کہ اس طرح لائسنس جاری کرنا پرندوں کے قتل کے زمرے میں آتا ہے اور ان پرندوں کا شکار کرنے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی ہے؟

اُنھوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہمان داری کسی کو عظیم نہیں بنا سکتی بلکہ قانون کی پاسدادی عظیم بنا سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس پرندے کے شکار کی اجازت کے لیے صوبوں کو لکھے کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت یہ اختیار صوبوں کو دے دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں