گوادر: زمین کی قیمت دوچند

گوادر ترقیاتی منصوبہ
Image caption بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت نئی سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں

گوادر میں حکام اور پراپرٹی ڈیلروں کا کہنا ہے کہ پاکستان-چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد وہاں پچھلے دس برسوں سے زمینوں کی گری ہوئی قیمتیں پھر سے چڑھنا ہونا شروع ہوگئی ہیں اور ایک ماہ کے دوران ان میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے مختلف علاقوں سے سرمایہ کار اور پراپرٹی ڈیلر بھی دوبارہ گوادر پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

چالیس سالہ نوید خان سدوزئی سے ملاقات ہوئی جو پاکستان کے شمال مغربی ضلع بنوں کے رہائشی ہیں اور لگ بھگ دس برس بعد گوادر آئے ہیں۔

2005 میں انہوں نے گوادر میں چار کروڑ روپے کی لاگت سے ایک رہائشی اور تجارتی سکیم شروع کی تھی جس پر آج تک کام شروع نہیں ہوسکا۔ مگر اب وہ پھر سے پرامید ہیں۔

’جب یہاں مارکیٹ کی حالت خراب ہوئی تو ہمارے پیسے آدھے سے بھی کم ہوگئے تھے۔ دو کروڑ پر بھی ہماری جائداد یہاں پر نہیں بکتی تھی۔ اب مارکیٹ میں ہلچل شروع ہوئی ہے۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہماری زمینوں کی کیا قیمت ہے۔ اگر دوبارہ اچھی قیمت لگنے لگی تو ہماری یہ کوشش ہوگی کہ میں تمام پروجیکٹس کو پھر سے شروع کردوں۔‘

Image caption اقتصادی راہداری پر کام شروع ہوتے ہی پراپرٹی ڈیلروں نے پھر سے دفاتر کھول لیے ہیں

گوادر میں ان دنوں پراپرٹی ڈیلروں کی دوکانوں پر گاہکوں کا رش ہے اور جو پراپرٹی ڈیلر کئی برس پہلے اپنا کاروبار بند کرکے چلے گئے تھے انہوں نے اپنی دوکانیں پھر سے کھول لی ہیں۔

پنجاب کے ضلع ساہیوال سے تعلق رکھنے والے پچاس سالہ محمد بلال بھی ان پراپرٹی ڈیلروں میں شامل ہیں۔ ان کا دفتر ایئرپورٹ روڈ پر فرنٹئر کور کی چوکی کے ساتھ واقع ہے۔ نئے فرنیچر، رنگ و روغن اور ٹھنڈا اے سی دفتر کے چند دن پہلے کھلنے کا پتہ دے رہا تھا۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے محمد بلال نے کہا کہ ’اب تقریباً سات آٹھ سال بعد ہم نے دوبارہ دفتر کھولا ہے۔ تقریباً ایک ہفتہ ہوگیا ہے۔ حالات کافی بہتر ہیں۔ ریٹ بھی کافی بڑھ گئے ہیں۔ جو پلاٹ دس لاکھ کا تھا اسکا ریٹ بیس لاکھ ہوگیا ہے۔ پانچ لاکھ والا دس لاکھ کا ہوگیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں سڑکیں بننا شروع ہوگئی ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ کافی تعداد میں گوادر آرہے ہیں۔ پورے پاکستان سے لوگ آرہے ہیں۔‘

دس بارہ برس پہلے گوادر میں جب بندرگاہ کی تعمیر شروع ہوئی تھی تو ملک بھر سے سرمایہ کاروں نے یہاں ایکڑوں کے حساب سے زمینیں خریدیں۔ 200 کے قریب نجی اور دو سرکاری رہائشی اور تجارتی منصوبے شروع ہوئے۔ اربوں روپے کا کاروبار ہوا۔ کچھ سڑکیں تو بنیں مگر کسی منصوبے پر بھی کام شروع نہیں ہوسکا۔

گوادر میں ایک ایک پلاٹ کئی کئی لوگوں کو بیچا گیا اور یوں کسی نے اربوں کمائے تو کئی قلاش ہوگئے۔ حکومت بلوچستان کہتی ہے کہ ان بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں محکمہ روینیو کے کئی اہلکار بھی ملوث پائے گئے۔

Image caption ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ بلوچستان ظفر مسعود نے زمین خریدنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ سودے سے پہلے زمین دیکھ لیں اور تحصیلدار سے مل کر تسلی کر لیں

ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ بلوچستان ظفر مسعود نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گوادر میں جہاں پر بھی لینڈ روینیو ایکٹ کے تحت زمین حاصل کی جانی تھی ان میں محکمہ روینیو کے عملے نے لوگوں کے ساتھ ملکر روینیو ریکارڈ میں ہیر پھیر کی تھی۔

’حتّیٰ کہ گوادر کا جو مشرقی ساحل ہے اسے بھی روینیو ریکارڈ میں شامل کرکے لوگوں کو بیچ دیا تھا۔ تو ان کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ معطل ہیں، بہت سے لوگوں کے خلاف انکوائری ہورہی ہے۔ بہت لوگوں کے خلاف انکوائری ہوکے رپورٹیں جاچکی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس بات کے امکانات کم ہیں کہ ایسی بے ضابطگیاں دوبارہ ہوں گی۔ تاہم انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ گوادر میں زمین خریدنے سے پہلے خود جگہ کا معائنہ کریں اور تحصیلدار سے مل کر پوری تسلی کرنے کے بعد سودا کریں۔

Image caption گوادر میں پینے کے پانی کی قلت ایک اہم مسئلہ ہے

ظفر مسعود نے کہا کہ سرمایہ کار صرف اسٹیٹ ایجنٹوں پر انحصار نہ کریں۔ ’پہلے ایسا ہوتا تھا کہ اگر کراچی کا سرمایہ کار ہے تو وہ اسٹیٹ ایجنٹ سے رابطہ کرتا تھا اور زمین کا سودا کرلیتا تھا۔ اس کے پاس ملکیت کے کاغذات تو ہوتے تھے مگر یہ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ اس کی زمین کہاں ہے۔‘

گوادر کی ترقی کی امید پھر سے جاگی ہے۔ کسے پتہ کہ ماہی گیروں کا یہ چھوٹا سا قصبہ کل کا دوبئی یا سنگاپور ہو۔ مگر اس کا بڑی حد تک انحصار پائیدار امن کے قیام اور پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر ہے۔

اسی بارے میں