’زمین کا جھگڑا کہہ کے جان نہیں چھڑائی جا سکتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیوز میں بچوں کی مزاحمت نظر نہیں آ رہی تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُن کا استحصال نہیں ہوا ہے

حقوقِ انسانی کمیشن برائے پاکستان کا کہنا ہے کہ قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے معاملے کو زمین کا جھگڑا قرار دے کر ذمہ داری سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی بلکہ اس کی باقاعدہ تفتیش ہونی چاہیے اور تمام سکولوں میں بچوں کے لیے آگاہی پروگرام شروع کرنے چاہیے۔

حقوقِ انسانی کمیشن برائے پاکستان اور اے جی ایچ ایس کے حقوق بچگان کے یونٹ نے ایک نو رکنی ٹیم تشکیل دی اور قصور واقعے کے اصل حقائق جاننے کے لیے گاؤں حسین والا کا دروہ کیا اور حقائق سے آگاہی کی ایک رپورٹ تیار کی ہے ۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات سنہ 2010 سے سنہ 2014 کے عرصے کے دوران پیش آئے جب اُن کی عمریں دس سے 16 سال کے درمیان تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس کے مطابق اُن کے پاس جنسی زیادتی کی 72 ویڈیوز ہیں جب کہ حقیقت میں کئی سو ویڈیوز موجود ہیں۔

حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیوز میں بچوں کی مزاحمت نظر نہیں آ رہی تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُن کا استحصال نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اِس سارے معاملے میں سائبر کرائم کا عمل دخل ہے اِس لیے حقوق انسانی کی تجویز ہے کہ اس سارے معاملے کی تفتیش وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو کرنی چاہیے۔

بچوں کی تعداد کے بارے میں حنا جیلانی نے کہا کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ اگر چند بچوں کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی ہے تو یہ ایک سنجیدہ اور گھمبیر معاملہ ہے۔

اُنھوں نے صوبائی وزیر قانون کی اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سارے سکینڈل کے پیچھے زمین کا جھگڑا بھی ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہے بھی تو اس کی وجہ سے کیس کی تفتیش پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

Image caption حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو دھمکانے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے جس کا پولیس نے ابھی تک کوئی سد باب نہیں کیا

حنا جیلانی نے بتایا کہ متاثرہ بچوں اور ان کے گھر والوں کو بلیک میل کیا جاتا رہا اور اُن سے پیسے اینٹھے گے۔

اُنھوں نے کہا کا کہ بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِس معاملے کی تفیش میں لاپرواہی برتی گئی ہے۔

حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ وہ حویلی جہاں پر یہ جرم سر زردہ ہوا پولیس نے اُس کو بھی سیل نہیں کیا اور ایک مقامی چینل اُس کے اندر جا کر فلم بندی کرتا رہا اور وہ چیزیں دکھاتا رہا جو اس جرم میں استعمال ہوئی ہیں جس سے شواہد متاثر ہو سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے جس کا پولیس نے ابھی تک کوئی سد باب نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن سیاسی عمائدین نے گذشتہ دنوں گاؤں کا دورہ کیا اُنھوں نے متاثرہ بچوں اور اُن کے گھر والوں کی بہتری ، بہبود اور اُن کے کیس کی پیروی کی بات کرنے کی بجائے صرف سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

حنا جیلانی نے کہا کہ ہمیں اِس سارے معاملے کو محض ایک واقعہ سمجھ کر بھول نہیں جانا چاہیے بلکہ ایک معاشرتی مسئلے کے طور پر اِس کی پیروی کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بچوں کو اُن کی حفاظت کے متعلق بتائیں اور تمام سکولوں میں بچوں کو اپنے تحفظ کے بارے میں آگاہی مہیا کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ ہم تین سال سے کوشش کر رہے ہیں بچوں کے تحفظ کا ایک جامع قانون بنایا جائے جس میں بچوں کی حفاظت کے لیے پروگرام کے ساتھ ساتھ اُن کی عملی مدد کی جا سکے۔

اسی بارے میں