پاکستان میں جوہری توانائی کے توسیعی منصوبے

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کراچی میں چین کی مدد سے لگائے جانے والی ایٹمی بجلی گھر پر ساڑھے نو ارب ڈالر لاگت آئے گی: فائل فوٹو

پاکستان میں کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی توسیعی منصوبے پر ابھی اعتراض ختم ہی نہیں ہوئے کہ حکومت نے مزید منصوبوں کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ 2050 تک نیوکلیئر پاور پلانٹس سے 40 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔

چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن محمد نعیم کا کہنا ہے کہ نئے نیوکلیئر پاور پلانٹس کی تنصیب کے لیے ملک کے مختلف صوبوں میں جگہوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور وہاں تحقیق اور تعمیر کے لیے ان جگہوں کے حصول کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انھوں نے یہ بات پاکستان کے سب سے بڑے اور متنازع کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ، کے دوسرے اور تیسرے حصے کی افتتاحی تقریب میں جمعرات کو کہی۔

کراچی میں چین کی مالی معاونت سے ملک کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر تعمیر کیا جا رہا ہے، جس سے 1100 میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی اور جس پر ساڑھے نو ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ 1972 میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لگایا گیا تھا، اس وقت اس کی گنجائش 137 میگاواٹ تھی، جو اس وقت کم ہو کر 80 میگا واٹ رہ گئی ہے۔ یہ بجلی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو فروخت کی جاتی ہے۔

2011 میں بھاری پانی کے اخراج کے بعد اس پلانٹ کو کچھ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور جب دوبارہ اس کی توسیع یعنی K2 اور K3 کا منصوبہ سامنے آیا تو بعض سائنسدانوں اور دیگر سرگرم شہری تنظیموں نے اس پر خدشات کا اظہار کیا جس سے یہ منصوبہ متنازع ہوگیا۔

ماہر طبعیات پروفیسر پرویز ہود بھائی کا اعتراض تھا کہ اتنے گنجان آباد شہر کے نزدیک جوہری بجلی گھر کا منصوبہ دانشمندانہ اقدام نہیںہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تاب کاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں پروفیسر پرویز ہود بھائی، شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر اے ایچ نیّر اور عارف بلگرامی نے درخواست بھی دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ نہیں کرایا گیا اور حادثے کی صورت میں لوگوں کے انخلا کا ہنگامی پروگرام بھی دستیاب نہیں۔

عدالت کے حکم پر منصوبے پر کئی ماہ تک حکم امتناعی رہا لیکن بعد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی یقین دہانی کے بعد درخواست نمٹا دی گئی۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین محمد نعیم کا کہنا ہے کہ ایٹمی پاور پلانٹس کی تنصیب اور پیداوار کے عمل کے دوران سخت ترین حفاظتی اقدامات کو بروکائے کار لایا جا رہا ہے۔ پلانٹ سے ملحقہ علاقوں اور پلانٹس میں تاب کاری کی جانچ پڑتال مسلسل جاری رہتی ہے۔

پاکستان اس حوالے سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوکلیئر آپریشن اور سیول کنوینشن جیسے حفاظت معیاروں کی پیروی کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ 1972 میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لگایا گیا تھا

محمد نعیم کا کہنا ہے کہ ایٹمی پاور پلانٹس کی تنصیبات میں حادثے کی صورت میں متعلقہ قومی اور صوبائی محکموں کے ساتھ ان کا تحریری معاہدہ موجود ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اس وقت ایٹمی بجلی گھروں سے 665 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے، حکومت کا اندازہ ہے کہ اس میں اگلے سال سے 340 میگا واٹ کا اضافہ ہو جائے گا۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ 3 تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے جبکہ چشمہ 4 جس میں 340 میگاواٹ بجلی کی پیداری صلاحیت ہے 2017 میں مکمل ہوگا۔

وزیر اعظم نے پاکستان کے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی جانب سے ان حفاظتی انتظات پر خصوصی توجہ کے ساتھ کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ دنیا کے مروجہ قوانین کے مطابق تمام ایٹمی بجلی گھروں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ان اقدامات سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آگاہ ہے۔

کراچی میں کینپ کی توسیع منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ چشمہ پاور پلانٹ کی منظوری بھی ان کے پہلے دور حکومت میں ہوئی تھی اور کینپ میں توسیع بھی ان کے دور میں ہو رہی ہے۔

پاکستان میں کئی سالوں سے بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق جون میں ملک میں بجلی کی طلب 18 ہزار میگاوٹ تھی جبکہ پیداوار 13 ہزار سے کچھ زائد رہی۔

اسی بارے میں