شمالی وزیرستان: ’شوال میں فوج کی زمینی کارروائی کا آغاز ہوگیا‘

Image caption آپریشن ضربِ عضب کے ایک سال کے دوران 2763 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق آپریشن ضربِ عضب کے سلسلے میں شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں فوج کی زمینی کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔

ضرب عضب کس قدر کامیاب؟

متاثرین کی واپسی

پاکستانی فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا۔ فوج نے اب تک کی کارروائیوں میں ایجنسی کے زیادہ تر حصے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا دعویٰ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر عاصم باجوہ نے جمعرات کی شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ شوال میں زمینی آپریشن شروع ہو گیا ہے، آرمی چیف نے جلد ازجلد فوجی اہداف حاصل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔‘

آرمی چیف نے آپریشن کے دوران فضائی اور زمینی فورسز کو مربوط رابطے قائم رکھنے کو بھی کہا ہے۔

ادھر سرکاری ریڈیو نے آئی ایس پی آر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جمعرات کو شوال میں فضائی بمباری کے نتیجے میں 18 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے غلمئی میں 28 دہشت گرد مارے گئے۔

گذشتہ ماہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شوال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔

آپریشن ضربِ عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر بتایا گیا کہ مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور اس عرصے میں سکیورٹی فورسز کے347 افسران اور جوان بھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شوال ایک طویل وادی ہے جو وزیرستان سے افغانستان تک پھیلی ہوئی ہے اور پورے علاقے میں پاکستانی فوج کو تعینات کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تاہم ابھی دیکھنا یہ ہے کہ شوال آپریشن کی نوعیت کیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ چند روز پہلے بھی یہ خبریں موصول ہوئی تھیں کہ فوج نے شمالی وزیرستان کی اہم چوٹیوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

Image caption شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس سے متاثر دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے

رحیم اللہ یوسف زئی نے گذشتہ دنوں اٹک میں صوبائی وزیرِ قانون کی ہلاکت اور اس کے بعد ایم کیو ایم کے رکنِ قومی اسمبلی پر قاتلانہ حملے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں تو بدلے میں فوج کی کارروائیاں بھی ہوتی ہیں۔

رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں حالیہ پیش رفت امریکہ کے عدم اعتماد اور تحفظات دور کرنے کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔

جمعرات کے روز ہی شمالی وزیرستان سے متصل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار اور تین شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جھڑپ جنوبی وزیرستان کی تحصیل تیارزہ کے علاقے آسمان پنگا میں ہوئی جب شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی دو چوکیوں کو گھیرے میں لے کر فائرنگ شروع کر دی۔

اسی بارے میں