اس سے کیا ہوگا؟

Image caption کیا سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے میزبانی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ بھارت کی تمام ریاستی اسمبلیوں کو دعوت نامے بھیجے جائیں گے لیکن اگر کشمیر کے سپیکر کو دعوت نامہ نہ مل سکے تو دولتِ مشترکہ ایسوسی ایشن برا نہ مانے

پاکستان نے 30 ستمبر تا آٹھ اکتوبر اسلام آباد میں ہونے والی 61ویں دولتِ مشترکہ پارلیمانی کانفرنس یوں منسوخ کر دی کیونکہ پاکستان نے بطور میزبان بھارت کی تمام ریاستوں کے اسمبلیوں کے سپیکرز کو دعوت نامے بھیجے مگر بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے سپیکر کو اس بنیاد پر مدعو کرنے سے انکار کر دیا کہ کشمیر متنازع علاقہ ہے۔

کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے لندن میں قائم مرکزی سیکرٹیریٹ اور ایسوسی ایشن کے ایک رکن بنگلہ دیش کی کوششوں کے باوجود پاکستانی موقف برقرار رہا۔

بھارت نے اسے جواز بنا کے کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا اور پھر پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان میزبانی نہیں کرے گا لیکن منسوخی سے بھی پاکستان کشمیر کے معاملے پر اپنا موقف اجاگر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ (یہی بات کارگل بحران کے بعد سے پرویز مشرف بھی کہتے آ رہے ہیں)۔

ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے میں آزاد ہے مگر کانفرنس کی منسوخی کے لیے جو جواز پیش کیا گیا ہے کیا وہ واقعی ’اصولی‘ ہے؟

دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے نو علاقائی ریجن ( ایشیا ، افریقہ ، آسٹریلیا ، جزائرِ برطانیہ و بحیرۂ روم ، کینیڈا ، کیریبینز ، امریکاز اینڈ اٹلانٹک ، بحرالکاہل و جنوب مشرقی ایشیا اور بھارت) ہیں اور ان ریجنز کی 181 مقامی شاخیں ہیں۔

پارلیمانی ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنسوں کے علاوہ ریجنل اجلاس بھی تواتر سے ہوتے رہتے ہیں۔

جہاں تک بھارت کے زیرِ انتظام ریاست ِ کشمیر کا معاملہ ہے تو اس کی اسمبلی انڈیا ریجن کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کی رکن ہے۔ اگر یہ متنازع ہے تو کیا پاکستان نے کشمیر اسمبلی کی انڈیا ریجن کی رکنیت کا معاملہ کامن ویلتھ ایسوسی ایشن کے سامنے پہلے کبھی اٹھایا ؟

جب 1999 میں فوج نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو پاکستان کی دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی رکنیت معطل کردی گئی اور اسے 2004 چار میں بحال کیا گیا۔

سنہ 2007 میں دہلی میں ایسوسی ایشن کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کا پارلیمانی وفد بھی شریک ہوا اور اسی کانفرنس میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی اسمبلی کا وفد بھی شریک تھا۔ پاکستان نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیوں نہیں کیا؟

اس بارے میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر اور منسوخ شدہ کانفرنس کے میزبان ایاز صادق کی تاویل یہ ہے کہ وہ ایک ڈکٹیٹر (مشرف) کا فیصلہ تھا مگر منتخب جمہوری حکومت کشمیر کاز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

تو کیا ڈکٹیٹر کی اسمبلی میں موجود خواجہ آصف سمیت مسلم لیگ ن کے کسی رکن یا جلاوطن اور مقامی پارٹی قیادت نے 2007 میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ پاکستانی پارلیمانی وفد ایسی کانفرنس میں کیا لینے جا رہا ہے جہاں متنازع کشمیر کے اسمبلی نمائندے بھی موجود ہوں ؟

مارچ 2008 میں ’سابق کٹھ پتلی ریاستی حکمران‘ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محترمہ محبوبہ مفتی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کے جاری کردہ ویزے پر اسلام آباد تشریف لائیں اور انھوں نے دیگر کے علاوہ میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔

شاید یہ بات ایاز صادق صاحب کے بھی علم میں ہو کہ اس وقت کسی ڈکٹیٹر کی نہیں بلکہ یوسف رضا گیلانی کی منتخب حکومت تھی اور کشمیر اس وقت بھی اتنا ہی متنازع تھا۔

چلیے مان لیا کہ ڈکٹیٹر کے فیصلوں کی جمہوری حکومت پابند نہیں ہوتی مگر جب دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی 58ویں کانفرنس 2012 میں کولمبو میں منعقد ہوئی تو اس وقت پاکستان میں منتخب جمہوری حکومت اپنے چوتھے برس میں تھی۔

کیا پاکستان نے اپنا پارلیمانی وفد کولمبو بھیجنے سے پہلے یہ چھان بین کی کہ انڈیا ریجن کے جو پارلیمانی وفود کولمبو آ رہے ہیں ان میں کوئی کشمیری وفد تو شامل نہیں؟

یہ فرمائیے کہ جب پاکستان نے 61ویں کامن ویلتھ پارلیمنٹیریئن ایسوسی ایشن کی عالمی کانفرنس کا میزبان بننے کا فیصلہ کیا تو کیا سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے میزبانی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ بھارت کی تمام ریاستی اسمبلیوں کو دعوت نامے بھیجے جائیں گے لیکن اگر کشمیر کے سپیکر کو دعوت نامہ نہ مل سکے تو دولتِ مشترکہ ایسوسی ایشن برا نہ مانے۔

کیا کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے آئین میں یہ سہولت موجود ہے کہ کانفرنس کا میزبان اپنی پسند ناپسند کے مطابق مندوب مدعو کر سکتا ہے؟

اگر یہ واقعی اتنا اہم اور اصولی معاملہ ہے تو ایسوسی ایشن کے کسی اور رکن کی جانب سے اب تک پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت سامنے آئی ؟ گر نہیں آئی تو ایسی تنظیم میں رہنے کا فائدہ جو اصول اور بے اصولی میں ہی تمیز نہ کرسکے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ دشمن کی مرغی مارنے کے چکر میں اپنی دیوار ہی ڈھا دی؟

کاش کسی طرح کوئی ایسا نظام وضع ہوجائے جس سے بروقت پتہ چل سکے کے کشمیر پر موقف کب اصولی ہے ، کب نیم اصولی ، کب بے اصولی تو عالمی برادری کو اسی اعتبار سے خود کو بروقت ایڈجسٹ کرنے میں آسانی ہوجائے ۔

کامن ویلتھ کانفرنس کوئی دو طرفہ انڈیا پاکستان ملاقات نہیں تھی۔ اس میں 53 ممالک کے 550 مندوب آنے تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان نے کانفرنس منسوخ کر کے اپنے اصولی موقف کے لیے جو سفارتی قربانی دی اس سے دنیا میں کتنی حکومتوں کے دل پگھلتے ہیں؟

قصور شاید ایاز صادق صاحب کا بھی نہیں۔

کیا ناوکِ مژگاں سے رکھوں زخم کی امید

چلتے ہیں یہاں تیر کسی اور کماں سے۔ (جاوید صبا)