فوجی عدالت سے سزا یافتہ ملزم کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سپریم کورٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو اپنے اکثریتی فیصلے میں جائز قرار دیا تھا

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں درخواست دائر کرنے کے لیے ضروری دستاویزات فراہم کرنے سے متعلق دائر کی گئی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس درخواست کو متعلقہ فورم یعنی ہائی کورٹ میں دائر کیا جائے۔

یہ درخواست فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے سوات کے رہائشی مجرم حیدر علی کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔

حیدر علی اُن پہلے چھ مجرموں میں شامل ہیں جنہیں فوجی عدالتوں نے کچھ عرصہ قبل سیکیورٹی فورسز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں اس سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی تاہم عدالت عالیہ نے یہ درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی تھی کہ اس کے ساتھ نہ تو فوجی عدالت کے فیصلے کی نقل اور نہ ہی متعلقہ دستاویزات لف کی گئی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی مجرم خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔

ذوالفقار بھٹہ نے الزام عائد کیا کہ عدالت عظمیٰ کے واضح احکامات کے باوجود متعلقہ ادارے فوجی عدالتی فیصلے کی نقول فراہم نہیں کر رہے۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو جائز قرار دینے کے بعد خصوصی عدالتوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد پر جرم ثابت ہونے کے بعد انھیں موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

مجرم حیدر علی کے وکیل کے مطابق اُن کے موکل کو سوات سے سنہ 2009 میں عیدالفطر کے روز اُٹھایا گیا تھا اور اس وقت اُن کی عمر پندرہ سال سے بھی کم تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ مجرم حیدر علی کے گھر والوں کو اس سال رمضان میں آگاہ کیا گیا کہ اُن کے بیٹے کو سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں ہر حملہ کرنے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے تاہم اُنھیں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس فوجی عدالت کی طرف سے اُنھیں مجرم گردانتے ہوئے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

ذوالفقار بھٹہ کے مطابق اُنھوں نے سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر کی تھی اس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی جائے کہ فوجی عدالتوں سے جن افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے اُنھیں ضروری دستاویزات کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں اگر کسی بھی مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے تو اس ادارے کے سربراہ کے خلاف قتل عمد کا مقدمہ درج کیا جائے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو اپنے اکثریتی فیصلے میں جائز قرار دیا تھا۔

تاہم اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

اس سے قبل رواں برس اپریل میں سپریم کورٹ نے 21ویں آئینی ترمیم پر فیصلے تک نور سعید، حیدر علی، مراد خان، عنایت اللہ، اسرار الدین اور قاری ظہیر نامی ان افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد معطل کر دیا تھا جنھیں فوجی عدالتوں کی جانب سے یہ سزا دی گئی تھی۔

فوج کی جانب سے ان افراد کو سزا سنائے جانے کے بارے میں جو بیان سامنے آیا تھا اس میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ افراد دہشتگردی کے سنگین جرائم، قتل، خودکش حملے اور لوگوں کے جان و مال کے نقصان میں ملوث ہیں تاہم بیان میں ان مقدموں کی تفصیل یا سماعت کے مقام کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

دہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر 16 دسمبر سنہ 2014 میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد کیا گیا تھا اور اس ضمن میں پارلیمنٹ نے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی کی تھی۔

اس وقت ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم ہیں جن میں سے صوبہ خیبر پختون خوا اور صوبہ پنجاب میں تین تین جبکہ سندھ میں دو اور بلوچستان میں ایک عدالت ہے۔

اسی بارے میں