’بات چیت نہ ہونا مایوس کن، دونوں ملک جلد مذاکرات بحال کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’امریکہ کو رواں ہفتے کے اختتام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات ختم ہونے پر افسوس ہوا ہے‘

امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے سلامتی اُمور کے مشیروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی منسوخی کو ’مایوس کن‘ قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد باقاعدہ مذاکرات بحال کریں۔

ادھر بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح کی بات چیت کی منسوخ ہونے کو ’بدقسمتی‘ قرار دیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کی دوبارہ بحالی کا اقدام حوصلہ افزا تھا لیکن رواں ہفتے کے اختتام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات ختم ہونا مایوس کن ہے۔

’مذاکرات کے لیے کشمیریوں سے نہ ملنے کی یقین دہانی لازمی‘

’کسی شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے بھارت جانے کو تیار ہوں‘

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ روس کے شہر اوفا میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی بات چیت ’تعمیری‘ تھی اور امریکہ نے مذاکرات کی بحالی کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ ’اوفا میں بھارت اور پاکستانی رہنماؤں کے درمیان تعمیری بات چیت، بالخصوص دنوں ملکوں کے مشیرانِ سلامتی اُمور کے درمیان مذاکرات کا اعلان حوصلہ افزا اقدام تھا۔‘

اتوار کو لکھنؤ میں ایک تقریب میں بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ بات چیت بھارت نے نہیں بلکہ پاکستان نے خود ایجنڈے سے بھٹکتے ہوئے منسوخ کی ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ ملاقات اوفا میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی بات چیت کی بنیاد پر ہونی تھی اور پاکستان کو اوفا میں طے شدہ ایجنڈا گھمانا نہیں چاہیے تھا۔‘

راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’انھوں نے خود ہی ایجنڈے سے بھٹک کر ملاقات منسوخ کی۔ ہم مستقبل میں بھی پاکستان سے خوشگوار تعلقات کی کوشش جاری رکھیں گے۔‘

پاکستان اور بھارت کے مشیرانِ سلامتی اُمور کے درمیان مذاکرات 23 اور 24 اگست کو نئی دہلی میں ہونا تھے لیکن گذشتہ روز بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دہلی میں حریت رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے اور بات چیت کا دائرہ کار دہشت گردی تک ہی محدود رکھنے کی یقین دہانی کے بعد ہی قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات ممکن ہو سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کسی تیسرے فریق کی موجودگی کا کوئی امکان ہی نہیں اور پاکستان کے پاس یہ یقین دہانیاں کرانے کے لیے سنیچر کی رات تک کا وقت ہے۔

اس کے جواب میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے پیشگی شرائط کے بعد دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی دہلی میں مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

یاد رہے کہ بھارت نے گرداس پور کے حملے بعد پاکستان کو دونوں ممالک کے خارجہ اُمور کے مشیروں کے درمیان مذاکرات کی تجویز دی تھی۔

بھارتی وزیرِ خارجہ کی پریس کانفرنس کے بعد سنیچر کی شب پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ردعمل میں کہا گیا تھا کہ سشما سوراج کی نیوز کانفرنس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر دہلی میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات ان شرائط کی بنیاد پر ہوتی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ مدِنظر رکھتے ہوئے کہ دہشت گردی کے ایسے کئی واقعات جن میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات لگائے گئے جعلی ثابت ہوئے، یہ ممکن ہے کہ بھارت ایک، دو واقعات گھڑ کر اور ایل او سی پر محاذ گرم رکھ کر مذاکرات کی بحالی کو غیر معینہ مدت کے لیے ٹال دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption سشما سوراج نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی بات چیت میں کسی تیسرے فریق کی موجودگی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

پاکستان نے کہا تھا کہ دہشت گردی کا مسئلہ پاک بھارت جامع مذاکرات کا ہمیشہ سے حصہ رہا ہے اور سیکریٹری سطح کی بات چیت میں بھی اس پر ہمیشہ بات ہوتی رہی ہے۔ اس لیے یہ غیر مناسب ہے کہ بھارت اب یکطرفہ طور پر فیصلہ کرے کہ دہشت گردی پر بات چیت اور اس کے خاتمے کے بعد ہی دیگر معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی بات چیت کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی اور اعتماد کی بحالی ہے۔ اگر قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کا واحد مقصد دہشت گردی پر بات کرنا ہے تو اس سے صرف الزام تراشی میں اضافہ ہوگا اور ماحول مزید خراب ہی ہوگا۔‘

پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے تجویز دی تھی کہ دہشت گردی پر بات کے ساتھ ساتھ اوفا کے اعلامیے کے تناظر میں فریقین کو کشمیر، سیاچن اور سرکریک سمیت تمام حل طلب معاملات پر بات چیت کے طریقۂ کار اور ممکن ہو تو نظام الاوقات پر بھی بات کرنی چاہیے کیونکہ اسی سے دونوں ممالک کے درمیان امن کے امکانات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں