شدت پسندی کا نیٹ ورک ختم کر دیا گیا ہے: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption قومی ایکشن پلان کے تحت اب تک 11 سو سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں شدت پسندی کا نیٹ ورک ختم کر دیا گیا ہے اور کسی کو بھی پاکستان سے کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ افغانستان کی حکومت یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ افغانستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ملوث افراد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔

پیر کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کے اُن رہنماؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جو شدت پسندی کو فروغ دینے یا اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت اب تک 11 سو سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ آٹھ سو سے زائد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک میں کام کرنے والی شدت پسند تنظیموں کے 3400 سے زائد ایسے عناصر کی نشاندہی ہوئی ہے جو کافی متحرک ہیں جبکہ 7900 افراد کو انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈیول میں شامل کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں 62 ہزار سرچ آپریشن کیے گئے جن میں 68 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران خفیہ اداروں کی معلومات کی روشنی میں 5900 آپریشن کیے گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2009 میں جب سوات اور جنوبی وزیر ستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیے گئے تو اس کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات روزانہ کا معمول بن گئے تھے۔

اُنھوں بتایا کہ سنہ 2010 میں ملک بھر میں 2061 شدت پسندی کے واقعات رونما ہوئے تھے، تاہم جب سے نیشنل ایکشن پلان شروع ہوا ہے، اس وقت سے لے کر آج تک دہشت گردی کے 695 واقعات ہوئے ہیں جن میں سے 305 واقعات میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔ جب کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد ملک بھر میں سنگین مقدمات میں 70 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’فوج پولیس اہلکاروں کو کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کی تربیت دے رہی ہے‘

اُنھوں نے کہا کہ سول اور ملٹری قیادت اس پلان پر عمل درآمد کے لیے متفق ہے، اور فوج پولیس اہلکاروں کو کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کی تربیت بھی دے رہی ہے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے مقدمات کی جلد از جلد سماعت کے لیے قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں نے اب تک 28 مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں جبکہ 46 مقدمات اب بھی زیر التوا ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی کی سفارش پر کوئی بھی مقدمہ فوجی عدالتوں میں نہیں بھجوایا جائے گا۔

اسی بارے میں