قصور زیادتی کیس: مزید مقدمات کے اندراج روکنے کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کیس میں 13 افراد اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ تنزیل نے عبوری ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا

لاہور ہائی کورٹ نے قصور میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں ملوث ایک ملزم تنزیل الرحمان کی جانب سے مزید مقدمات کے اندراج کو رکوانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ کے روبرو تنزیل الرحمان کی درخواست پر سماعت ہوئی تو درخواست گزار ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ایک ہی مدعی کے بیان پر چار مختلف مقدمے درج کیے ہیں اور اب خدشہ ہے کہ پولیس مزید مقدمات درج کرے گی، جس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔

’جنسی زیادتی کا جرم گذشتہ دس سال سے ہو رہا تھا‘

درخواست گزار ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ پولیس کو مزید مقدمات درج کرنے سے روکا جائے جس پر لاہور ہائی کورٹ نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کر دی۔

خیال رہے کہ تنزیل الرحمان ان 15 افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف قصور کے گاؤں حسین والا میں بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں مقدمات درج ہیں۔

اس معاملے میں 13 افراد اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ تنزیل الرحمان نے عبوری ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

تھانہ گنڈا سنگھ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ مبینہ جنسی زیادتی کیس میں اب تک 18 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ملزم تنزیل الرحمان کی 31 اگست تک عبوری ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

اس سے قبل مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی برس سے جاری ان واقعات میں 280 سے زیادہ بچوں کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی 30 ویڈیوز ان کے پاس آئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’پولیس اہلکار پر زیادتی کا الزام‘

ادھر صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں پولیس نے ایک نوعمر لڑکے کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں اپنے ایک ساتھی کانسٹیبل کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق واربرٹن پولیس اسٹیشن کے ایک کانسٹیبل نے چوری کے الزام میں گرفتار ایک 15 سالہ لڑکے کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی۔

بتایا گیا ہے کہ کانسٹیبل اتوارکی رات قیدی لڑکے کو حوالات سے نکال کر بیرک میں لےگیا جہاں اُس نے لڑکے کے ساتھ زیادتی کی۔

ننکانہ صاحب کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی پی او) شہزادہ سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ جنسی زیادتی کے الزام میں کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج کر کے اُس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

شہزادہ سلطان کا کہنا ہے کہ مبینہ جنسی زیادتی کرنے والے پولیس اہلکار کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جا چکا ہے اور آج اُس کو جیل منتقل کر دیا جائے گا۔

اُنھوں نے بتایا کہ دیگر تین گرفتار شدگان میں تھانے کا ایس ایچ او، چوری کے الزامات کی تفتیش کرنے والا اے ایس آئی اور حوالات کی حفاظت پر مامور اہلکار بھی شامل ہیں جن پرغفلت برتنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

شہزادہ سلطان نے بتایا کہ لڑکے کو چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ہفتے سے پولیس کی حراست میں تھا۔

اُنھوں نے بتایا کہ پولیس ملزم سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی چوری کے بارے میں تفتیش کر رہی تھی۔

ڈی پی او ننکانہ صاحب کا کہنا ہے کہ ملزم اِس سے پہلے بھی متعدد بار جیل جا چکا ہے اور وہ سب سے پہلے 2012 میں جیل گیا تھا۔

اسی بارے میں