پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کے فیصلے کو معطل کر دیا

Image caption حکام کے مطابق فوجی عدالتوں کی جانب سے اب تک 28 مقدمات کے فیصلے دیے جا چکے ہیں

پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کی طرف سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت موت کی سزا پانے والے ایک ملزم کی سزا پر عمل درآمد فوری طور پر روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔

اپیل کا حق دلوائیں

’فوجی عدالتوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے‘

یہ احکامات منگل کو پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس یونس تہاہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملزم حیدر علی کی والدہ باچا لائقہ کی طرف سے جاری کردہ درخواست کی سماعت پر جاری کیے۔

ملزم کے وکیل ملک محمد اجمل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات کے علاقے دیولئی سے تعلق رکھنے والے ملزم حیدر علی کو سکیورٹی فورسز نے 2009 میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جس وقت ملزم کو حراست میں لیا گیا اس وقت وہ دسویں جماعت کے طالب علم تھے اور ان کی عمر 14سال تھی۔

وکیل صفائی کے مطابق ملزم کو فوجی عدالت سے موت کی سزا سنائی گئی جس کی اطلاع ملزم کے خاندان کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے ملی۔ اس کے بعد ان کی والدہ کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وکلا کی جانب سے ابتدائی دلائل کے بعد حکم جاری کیا کہ ملزم کو فوجی عدالت کی جانب سے دی جانے والی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد آٹھ ستمبر تک روکا دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ عدالتِ عالیہ نے درخواست میں نامزد فریقین وفاقی حکومت اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران سے کیس کا تمام ریکارڈ اگلی پیشی پر طلب کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد ملک میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ ان عدالتوں کا قیام پارلیمنٹ کے ذریعے سے متفقہ طور پر عمل میں لایا گیا تھا جس کی تمام سیاسی جماعتوں نے حمایت کی تھی۔

گذشتہ روز وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ شدت پسندی کے مقدمات کی جلد از جلد سماعت کے لیے قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں نے اب تک 28 مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں جبکہ 46 مقدمات اب بھی زیر التوا ہیں۔

اسی بارے میں