فرنٹیئر کور کی کارروائی میں آٹھ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں فرنٹیئر کور کی ایک کارروائی میں آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

کوئٹہ میں ایف سی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ لوگ ایک سرچ آپریشن کے دوران مارے گئے۔

دوسری جانب بلوچ قوم پرست جماعت بلوچ ریپبلیکن پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ آپریشن عام آبادیوں کے خلاف کیا گیا۔

ایف سی کے بیان کے مطابق تحصیل سوئی کے ملحقہ علاقوں رستم دربار اور درینجن نالہ کی دور دراز گھاٹیو ں اور نالو ں میں موجود واقع کیمپوں کو ایف سی نے بدھ کی علیٰ الصبح گھیرے میں لیتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کیا۔

بیان کے مطابق پیچیدہ اوردشوارگزارخفیہ ٹھکانوں میں چھپے ہوئے مورچہ زن عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسزکے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردی۔

بیان کے مطابق اس کارروائی کے دوران عسکریت پسند تنظیم کے کمانڈرسمیت آٹھ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ ایک کوگرفتار کر لیا گیا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارے جانے والے عسکریت پسند تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جسے ایف سی نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسند ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد اور سبی کے اضلاع میں سیکورٹی فورسزپر حملے،گیس پا ئپ لا ئنوں، ریلوے ٹریک اور بجلی کے ٹاوروں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے علاوہ دیگر جرائم میں ملوث تھے۔

کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے آٹھ خفیہ ٹھکانوں اور کیمپو ں کو بھی مسمار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران فورسز کی مدد کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیےگئے ۔

دوسری جانب اس آپریشن کے حوالے سے بلوچ ریپبلیکن پارٹی نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔

بیان میں پارٹی کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر عام آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا کیا گیا ہے کہ اس آپریشن میں خواتین اور بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں