’جج کو نہیں اس کے فیصلوں کو بولنا چاہیے‘

Image caption جج کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں یا وہ الزام لگانے والے کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرے اور یا پھر اُن کے خلاف ہتکِ عزت کا دعوی دائر کرے: سعید الزمان صدیقی

آئینی ماہرین نے لاہور کے الیکشن ٹریبیونل کے جج جسٹس (ر) کاظم علی ملک کی طرف سے میڈیا پر آ کر بیان دینے کو ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجاز حکام کو مذکورہ جج کے اس اقدام کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

منگل کے روز صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن ٹریبیونل کے جج کاظم علی ملک نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں اپنے بیٹے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کا ٹکٹ مانگا تھا لیکن انکار کرنے پر اُنھوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے خلاف انتخابی عذرداری کا فیصلہ دیا ہے۔ اُنھوں نے اس فیصلے کے تعصب پر مبنی قرار دیا۔

جسٹس (ر) کاظم علی ملک نے اُسی روز ایک ٹی وی پروگرام پر آ کر ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی وزیر قانون اُن کے بیٹے کی پارٹی ٹکٹ لینے سے متعلق کوئی درخواست کی کاپی دِکھا دیں تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے بھی قومی اسمبلی کے اس فیصلے کے بعد سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں تاہم وفاقی وزیر اطلاعات نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سنائے جانے کے بعد وہ پبلک پراپرٹی بن جاتے ہیں اور ہر ایک کو اس پر رائے دینے کا حق ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی جج کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ٹی وی چینل پر آ کر اپنے دیے گئے فیصلوں کا دفاع کرے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کوئی جج کسی ٹاک شو میں بیٹھ کر اپنے فیصلوں کا دفاع کرے۔

سعید الزمان صدیقی کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات لگنے کے صورت میں جج کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں یا وہ الزام لگانے والے کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرے اور یا پھر اُن کے خلاف ہتکِ عزت کا دعوی دائر کرے۔

Image caption پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سردار ایاز صادق نے ٹریبیونل کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے اُنھیں اس موقع پر ٹی وی پر آکر ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا کیونکہ اُن کا یہ بیان مقدمے پر اثرانداز بھی ہوسکتا ہے: سنیئر آئینی ماہر ایس ایم ظفر

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے اور مذکورہ ٹریبیونل کے جج سے اس بات کی وضاحت طلب کی جانی چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر قانون اور سینیئر آئینی ماہر ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سردار ایاز صادق نے ٹریبیونل کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے اُنھیں اس موقع پر ٹی وی پر آ کر ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا کیونکہ اُن کا یہ بیان مقدمے پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر اُنھوں نے اپنی درخواست میں جج کے متعصب ہونے کا ذکر کیا تو پھر عدالت عظمٰی ٹریبیونل کے جج کو بھی طلب کر سکتی ہے۔

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ جج کو نہیں بلکہ اُن کے فیصلوں کو بولنا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر ایک جماعت کی طرف سے ٹریبیونل کے جج کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو جج کو اس تنقید کو برداشت کرنا چاہیے۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ اگر چہ کاظم علی ملک نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے لیکن الیکشن کمیشن اُن کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہ لاہور کے الیکشن ٹریبیونل کے جج کاظم علی ملک نے سنیچر کے روز پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122کا فیصلہ سناتے ہوئے اس حلقے میں ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد وہاں سے جیتنے والے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کو اپنی سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑے تھے تاہم اُنھوں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس فیصلے میں ٹریبیونل کے جج کواپنے کردار سے متعلق رائے دینے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف ٹریبیونل کے جج کاظم علی ملک کے دفاع میں میدان میں اتر آئی ہے اور اس نے ٹریبیونل کے فیصلے کو متعصبانہ قرار دینے پر حکمراں جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اسی بارے میں