کراچی میں پولیس کا ’را‘ کے چار کارندے گرفتار کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور ایم کیو ایم (حقیقی) کے رہنما آفاق احمد پر حملوں میں ملوث رہے ہیں

کراچی میں پولیس نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے چار مبینہ کارندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ افراد دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے رہنما آفاق احمد پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارنمنٹ کے ایس پی نوید خواجہ نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار افراد میں عبدالجبار عرف ظفر ٹینشن، محمد شفیق خان عرف پپو، محمد محسن خان عرف کاشف اور خالد امن عرف داد، شامل ہیں۔ جن میں ظفر ٹینشن اور محمد شفیق واٹر بورڈ میں ملازم ہیں جبکہ خالد امن کی شادی بھارت میں ہوئی ہے۔

ایس پی نوید خواجہ نے الزام عائد کیا کہ چاروں ملزمان نے سنہ 1995 سے 2002 تک بسنت پور، دیہرادون، جودھپور، فرید پور میں عسکری تربیت حاصل کی جہاں میجر بھگت اور میجر راٹھوڑ ان کی تربیت کے نگران تھے جبکہ آمدورفت کا انتظام جاوید لنگڑ کرتا رہا تھا۔

’عبدالجبار عرف ٹینشن نے دوران تفتیش بتایا کہ پاکستان واپسی پر جاوید لنگڑا نے ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد کے قتل کا ٹاسک دیا تھا وہ اجمل پہاڑی اور نورا کے ہمراہ دو کلو گرام دھماکہ خیز مواد سمیت سرحد عبور کرکے پاکستان پہنچے اور آفاق احمد پر حملے کی منصوبہ بندی کی لیکن وہ اس میں بچ گئے۔‘

ایس پی نوید خواجہ نے بتایا کہ اسی سال بھارت سے طارق زیدی نامی شخص نے ظفر عرف ٹینشن کو آگاہ کیا کہ اس نے شفیق پپو کو ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیج دیے ہیں تاکہ وہ لاہور سے اسلحے کی خریداری کر لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایس پی نوید کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو رواں سال محرم کی مہینے میں شیعہ آبادیوں میں تخریب کاری کا ٹاسک دیا گیا تھا

پولیس کے مطابق ملزمان نے انکشاف کیا کہ را کی ہدایت پر سنہ 2008 میں انھیں اورنگی ٹاؤن میں چھ بم نصب کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا، جن میں تین افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوئے۔

’آفاق احمد کی جیل سے رہائی کے بعد سنہ 2012 میں اعلیٰ قیادت کے احکامات پر دوبارہ ان پر حملہ کیا گیا جس میں حقیقی کے تین کارکن ہلاک ہوگئے جبکہ آفاق احمد دوبارہ محفوظ رہے۔‘

ایس پی نوید خواجہ کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو طارق زیدی نے رواں سال محرم کے مہینے میں شیعہ آبادیوں انچولی، رضویہ اور شاہ خراساں میں تخریب کاری کا ٹاسک دیا تھا تاکہ فرقہ ورنہ کشیدگی کو بھڑکایا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے ایک پام ٹاپ برآمد ہوا ہے جس کو فارنسک تجزیے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ پولیس کو کچھ پیغامات بھی ملے ہیں جس سے ثبوت ملتا ہے کہ را یہاں کس طرح دہشت گردی کرانا چاہتی ہے۔

ایس پی نوید خواجہ کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں کچھ ایسے بینک اکاؤنٹس ہیں جن میں را پیسے بھیجتی رہی ہے۔ یہ رقم کروڑوں رپوں میں ہے۔ ان کھاتہ داروں کو بھی جلد گرفت میں لایا جائے گا۔

اسی بارے میں