قرضوں کے مسائل کتنے سنگین؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی شرح دنیا میں کم ترین تصور کی جاتی ہے

پاکستان میں ٹیکس کے نظام پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے کی رپورٹ میں جہاں ٹیکس کی انتہائی کم شرح کی نشاندہی کی گئی ہے وہیں ملک کے اندرونی و بیرونی قرضوں میں غیر معمول حجم کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

مالیاتی اور سماجی معاملات پر تحقیق کرنے والے ادارے ’رفتار‘ کے سربراہ ثاقب شیرانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی رپورٹ کے اہم پہلوؤں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صرف 0.3 فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں جبکہ ہمسایہ ملک بھارت میں یہ شرح اس سے دس گنا یعنی تین فیصد ہے۔

’ٹیکس نہ دینے کا رجحان پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ‘

انھوں نے کہا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کم ہونے سے ملک میں ترقیاتی منصوبوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

’ٹیکس محصولات کم ہونے کی وجہ ملک کو ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری میں تاریخی خسارے کا سامنا رہا ہے اور اس کی وجہ سے تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں بہتری نہیں آ سکی۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹیکس آمدن میں گذشتہ ایک دہائی میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو زیادہ قرض لینے پڑے اور اسی وجہ سے قرض کے حجم میں گذشتہ سات برس کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے پر توجہ نہیں دی جا سکی

ثاقب شیرانی نے قرضوں کے منفی پہلوؤں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کا 44 فیصد ان قرضوں کا سود ادا کرنے میں چلا جاتا ہے۔

’سات برس میں قرضوں کے حجم میں تین گنا اضافہ بڑھتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے جو ملکی معیشت کو انتہائی تیزی سے غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ یہ محض قرضوں کا تیزی سے بڑھتا ہوا حجم نہیں بلکہ غیرپائیدار بھی ہے کیونکہ حکومت کی آمدن کا ایک بڑا حصہ آہستہ آہستہ سود کی مد میں جا رہا ہے۔ ‘

انھوں نے ملک میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی ٹیکس اصلاحات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ حکومتوں کے برعکس موجودہ حکومت نے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات متعارف کرانے میں زیادہ پیش رفت کی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط کے تحت حکومت نے دو تہائی مضبوط کاروباری گروپوں کو ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘

ثاقب شیرانی نے ٹیکس آمدن میں اضافے کے دعوے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں سے اضافی ٹیکس وصول کر کے ہوا نہ کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھا کر۔

اسی بارے میں