گرفتاری کے ڈر سے دھماکہ، شدت پسند خاندان سمیت ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ہسپتال کے باہر سیکیورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے:(فائل فوٹو)

صوبہ پنجاب کے وسطی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسند نےگرفتاری کے ڈر سے دستی بم کا دھماکہ کر دیا جس میں وہ اپنی اہلیہ اور دو بچوں سمیت ہلاک ہو گیا۔

دھماکے کے نتیجے میں حبیب الرحمان نامی شدت پسند زخمی ہو گیا تھا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ضلعی پولیس افسر کے دفتر کے اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فوج کے خفیہ ادارے کی معلومات کی روشنی میں تھانہ پیر محل کے علاقے میں واقع ایک گھر پر جمعرات کو چھاپہ مارا گیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ چھاپہ مارنے والوں میں پنجاب کے انسداد دہشت گردی محکمے کے اہلکاروں کے علاوہ مقامی پولیس اور حساس اداروں کے اہلکار بھی شامل تھے۔

اہلکار کے مطابق پولیس پارٹی کو دیکھ کر اس گھر میں موجود شدت پسند نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایلیٹ پولیس کے تین اہلکار زخمی ہوگئےجن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے مزید نفری طلب کی گئی اور شدید فائرنگ کے باوجود پولیس اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مارا۔

اُنھوں نے بتایا کہ پولیس پارٹی کو اندر آتا دیکھ کر شدت پسند نے اپنے پاس موجود دستی بم سے دھماکہ کر دیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا جبکہ مکان میں موجود ایک عورت اور دو بچے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

پولیس نے شدت پسند کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تاہم ملزم کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی اور وہ ہسپتال میں چل بسا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شدت پسند علاقے میں تین ماہ سے مقیم تھا۔

پیر محل تھانے کے اختر حیات کے مطابق پولیس کو گھر سے بڑی مقدار میں آتش گیر مادہ ، خودکش جیکٹ اور رائفلیں ملی ہیں اس کے علاوہ بڑی مقدار میں گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

حساس اداروں کے مطابق شدت پسند کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے ہے اور وہ اس تنظیم کے پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہونے والے شدت پسندی کی کارروائیوں کی نگرانی کرتا تھا۔

اسی بارے میں