’دولتِ اسلامیہ پر پاکستان میں پابندی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 24 اگست کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی ایکشن پلان پر بریفنگ دیتے ہوئے کالعدم تنظیموں کی جو فہرست پیش کی تھی اس میں داعش کا نام شامل نہیں تھا

پاکستانی حکومت نے اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو ممنوعہ قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مذکورہ تنظیم کو خفیہ اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کو کون شکست دے گا؟

ہم دولتِ اسلامیہ کو کتنا جانتے ہیں؟

اہلکار کے مطابق ان رپورٹوں میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگرچہ اس تنظیم کے ارکان ابھی پاکستان میں زیادہ نہیں ہیں لیکن ممنوعہ تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سے منسلک افراد کی ایک قابلِ ذکر تعداد اس تنظیم کے منشور سے متاثر دکھائی دیتی ہے۔

اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو یہ فریضہ سونپا گیا ہے کہ وہ ایسے افراد کا سراغ لگائیں جو پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کے لیے متحرک ہیں۔

واضح رہے کہ 24 اگست کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی ایکشن پلان پر بریفنگ دیتے ہوئے ممنوعہ تنظیموں کی جو فہرست پیش کی تھی اس میں دولتِ اسلامیہ کا نام شامل نہیں تھا۔

کچھ عرصہ پہلے پاکستانی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کی طرف سے متعدد بار یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کا وجود نہیں ہے۔

پاکستانی حکومت کی طرف دولت اسلامیہ پر پابندی عائد کرنے سے پہلے القاعدہ کے علاوہ دو بین الاقوامی تنظیموں کو ممنوعہ قرار دیا تھا ان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور ایسٹ ترکمان اسلامک موومنٹ شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دینی مدرسے جامعہ حفصہ کی طالبات نے چند ماہ قبل دولتِ اسلامیہ کے امیر ابوبکر البغدادی کو ایک خط لکھا تھا جس میں اُنھیں پاکستان میں کارروائیاں کرنے کی دعوت دی گئی تھی

دولتِ اسلامیہ پر پابندی عائد کرنے کے بعد پاکستان میں ممنوعہ تنظیموں کی تعداد 61 ہوگئی ہے جبکہ اس سے پہلے آخری مرتبہ 15 مارچ سنہ 2013 کو 11 تنظیموں کو ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ان تنظیموں میں یونائٹڈ بلوچ آرمی، تحریک طالبان سوات، تحریک طالبان مہمند ایجنسی، تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی، جئے سندھ متحدہ محاذ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکمان اسلامک مومنٹ، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد، امر بالمعروف ونہی عن المنکر (حاجی نامدار گروپ) عبداللہ بریگیڈ اور 313 بریگیڈ شامل ہیں۔

جس وقت ان تنظیموں کو ممنوعہ قرار دیا گیا اس وقت پاکستان میں نگراں حکومت قائم تھی۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق جمعے کے روز دولتِ اسلامیہ تنظیم سے متعلق شام اور عراق میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹوں پر بھی غور کیا گیا اور ان ملکوں میں اس تنظیم کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔

اہلکار کے مطابق ان ملکوں میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹوں سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ لڑکیوں کو دینی تعلیم دینے والے دینی مدرسے جامعہ حفصہ کی طالبات نے چند ماہ قبل دولتِ اسلامیہ کے امیر ابوبکر البغدادی کو ایک خط لکھا تھا جس میں اُنھیں پاکستان میں کارروائیاں کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔

اس خط پر اسلام آباد کی پولیس نے لیگل برانچ سے قانونی رائے لینے کے بعد وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ بھجوائی تھی جس میں ان طالبات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم ابھی تک ان طالبات کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں