ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ، دونوں جانب شہری ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان اور بھارت نے ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے پر متنازع جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے الزامات عائد کیے ہیں۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بھارتی فائرنگ سے مرنے والوں کی تعداد اب آٹھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ بھارت نے بھی پاکستانی فائرنگ سے اپنے تین شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے نشیب و فراز: خصوصی ضمیمہ

پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون کو طلب کر کے بھارتی شیلنگ سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں پر احتجاج بھی کیا ہے۔

ابتدائی طور پر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ان ہلاکتوں کی اطلاع ایک مختصر بیان میں دی تھی تاہم جمعے کی دوپہر پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

بیان کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ جمعرات کی شب ساڑھے گیارہ بجے اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی فوجیوں نے بھارتی فوجیوں کو معمول کے ضابطۂ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ورکنگ باؤنڈری کے قریب ایک کھدائی کی مشین استعمال کرتے دیکھا اور ٹوکا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجیوں کے اعتراض کا جواب بھارت کی جانب سے شدید فائرنگ کی شکل میں آیا جو جمعے کی صبح 11 بجے تک جاری رہی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کا نشانہ کندن پور، باجرہ گڑھی اور تھاتھی نامی تین دیہات بنے جہاں ایک خاتون اور بچے سمیت چھ شہری ہلاک اور 47 زخمی ہوئے جن میں 24 خواتین اور 11 بچے بھی شامل ہیں۔

زخمیوں میں سے دس کی حالت نازک ہے جن کا سیالکوٹ کے فوجی ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھارتی ہائی کمشنر سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہے۔

انھوں نے حکومت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جاری بھارتی جارحیت پر تشویش سے بھی بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا۔

سیکریٹری خارجہ نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے اور امن کی بحالی کے لیے 2003 کے فائر بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار رضا ہمدانی کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فائرنگ اور شیلنگ کے جواب میں چناب رینجرز نے بھی بھرپور کارروائی کی ہے۔

ادھر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ڈویژنل کمشنر پون کوتوال نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ جمعرات سے ہی آر ایس پورہ اور آرنیا سیکٹروں میں پاکستانی رینجرز کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری تھا جو جمعے کی صبح سات بجے تک جاری رہا۔

کوتوال نے بتایا کہ اس فائرنگ اور گولہ باری سے تین افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے جن میں سے تین کو تشویشناک حالت میں جموں منتقل کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو متاثرہ علاقے سے اجتماعی ہجرت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ کھلے میدانوں سے لوگوں کی نقل و حرکت مہلک ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فائرنگ اور شیلنگ کے جواب میں چناب رینجرز نے بھرپور کارروائی کی ہے

ڈویژنل کمشنر کا کہنا ہے ’جمعے کی صبح سے فائرنگ تھم گئی ہے، اور لوگ احتیاطی تدابیر کر رہے ہیں۔ لیکن ہم نے انھیں گھر نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فائر بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں اور ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فائر بندی کے سنہ 2003 کے سمجھوتے پر عمل کیا جائے۔

بھارت میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے اور حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روس میں ایک دوسرے سے ملاقات کی اور بات چیت دوبارہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی گئیں۔

اس سے قبل پاکستان نے 17 اگست کو کوٹلی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھارتی نائب ڈپٹی ہائی کمشنر کو ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک نے دفتر خارجہ میں طلب کر کے بھارتی فوجیوں کی جانب سے کوٹلی کے مقام پر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

یاد رہے کہ پاکستانی رینجرز اور بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز کے سربراہوں کے درمیان ستمبر میں بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ملاقات ہونی ہے۔ یہ ملاقات ڈی جی رینجرز اور آئی جی بی ایس ایف کے درمیان ہو گی۔

اسی بارے میں