لائن آف کنٹرول کا پاگل خانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فولادی باڑھ زدہ پنج شاخہ پاک بھارت سرحدی گورکھ دھندے کو خلا میں موجود ہر معقول مصنوعی سیارہ، سیاہ رات کے دل کو چیرتی روشن لکیر کے طور پر دیکھ سکتا ہے

دنیا کی سب سے قلعہ بند مسلح سرحدی لکیر شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ہے۔اس چار کلومیٹر چوڑی اور ڈھائی سو کلومیٹر طویل سرحدی لکیر کو عرفِ عام میں ’اڑتیس متوازی‘ کہا جاتا ہے۔

اس سرحدی لکیر کے دونوں جانب ایستادہ محافظ محاورتاً نہیں عملاً اڑتی چڑیا کے پرگن سکتے ہیں لیکن سب سے زیادہ نگرانی زدہ بارڈر ہونے کے باوجود یہ سب سے خطرناک بارڈر نہیں۔ یہ اعزاز بھارت، پاکستان سرحد کو جاتا ہے۔

باقی دنیا تو دو طرح کی عمومی اصطلاحات سے واقف ہے یعنی بین الاقوامی زمینی سرحد اور بحری حدود، مگر اسی دنیا میں بھارت اور پاکستان بھی تو ہیں جن کے درمیان پانچ اقسام کی سرحدی تقسیم ہے۔ مغرب سے مشرق کی جانب ہوتی ہوئی سمندری حدود سر کریک سے بین الاقوامی سرحد میں بدل جاتی ہے اور پھر یہی بین الاقوامی سرحد پاکستانی سیالکوٹ اور گجرات کو بھارت کے زیرِ انتظام جموں سے الگ کرنے کے لیے ورکنگ باؤنڈری ہو جاتی ہے۔

اس سے اوپر جنوبی کشمیر، وادی اور کرگل کو پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر اور بلتستان سے الگ کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول ( سابق سیز فائر لائن ) میں بدل جاتی ہے اور پھر سیاچن گلییشیئر تک پہنچتے پہنچتے واضح حد بندی نہ ہونے کے سبب لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہلانے لگتی ہے یعنی وہاں ’جو دستہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔‘( یہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول بھارت اور چین کے درمیان کی ایل او اے سی سے الگ معاملہ ہے)۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیوں منہ سے جھاگ نکل رہے ہیں ، کیوں سرجیکل سٹرائکس کی تڑیاں لگائی جا رہی ہیں

تقریباً 29 سو کلومیٹر طویل فولادی باڑھ زدہ پنج شاخہ پاک بھارت سرحدی گورکھ دھندے کو خلا میں موجود ہر معقول مصنوعی سیارہ، سیاہ رات کے دل کو چیرتی روشن لکیر کے طور پر دیکھ سکتا ہے ( پاک بھارت تعلقات میں یہ واحد روشن لکیر ہے)۔

بین الاقوامی سرحدی لکیر کو چھوڑ کے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کی لمبائی سات سو 40 کلومیٹر بنتی ہے۔اس سات سو 40 کلومیٹر میں سے ساڑھے پانچ سو کلو میٹر حد بندی کو بھارت نے سنہ2004 تک آٹھ تا 12 فٹ اونچی دوہری برقی باڑھ لگا کے قلعہ بند کر لیا۔

یہ باڑھ بھارت کے زیرِ انتظام علاقے میں ڈیڑھ سو گز اندر بنائی گئی۔ دونوں باڑھوں کے درمیانی رقبے میں بارودی سرنگیں بھری پڑی ہیں۔کسی بھی انسانی نقل و حرکت کی فوری اطلاع کے لیے الارم ، موشن سنسرز اور تھرمل امیجنگ آلات بھی نصب ہیں اور سنتریوں کے پاس رات کو دیکھنے والی دور بینیں بھی ہیں۔

بھارتی فوجی حکام کہتے ہیں کہ اس جدید قلعہ بندی کے سبب سرحد پار سے ہونے والی در اندازی میں 70 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

پھر کیا وجہ ہے کہ سنہ 2004 سے 2013 تک مسلسل پرسکون ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پچھلے ایک برس سے پھر تپ گئی۔کہنے کو پاکستان، وزیرستان تا کراچی اپنے اندرونی سکیورٹی معاملات میں الجھا ہوا ہے جبکہ بھارت میں سال بھر پرانی مودی حکومت کے سر پے عام انتخابات کی فوری تلوار بھی نہیں لٹک رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ھارتی فوجی حکام کہتے ہیں کہ اس جدید قلعہ بندی کے سبب سرحد پار سے ہونے والی در اندازی میں 70 فیصد تک کمی ہوئی ہے

سری نگر میں بھی ریاستی حکومت بھلی چنگی چل رہی ہے۔اگر وادی میں اس وقت کوئی بے چینی ہے بھی تو اس کی نوعیت اور وجوہات خود بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اندرونی ہیں۔ بھارتی میڈیا میں ان دنوں سرحد پار سے دراندازی کا بھی کوئی خاص واویلا نہیں۔

تو اسلام آباد تا دہلی پھر کیوں گرما گرم میچ پڑا ہوا ہے ، کیوں منہ سے جھاگ نکل رہے ہیں ، کیوں سرجیکل سٹرائکس کی تڑیاں لگائی جا رہی ہیں، کیوں کہا جا رہا ہے کہ ہم نے ایٹمی ہتھیار شبِ برات پر پھوڑنے کے لیے نہیں رکھے۔کیوں ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر آلو پیاز اور خشک میووں کے بجائے توپوں کے گولے آ جا رہے ہیں۔

ٹھیک ہے دونوں ممالک تعلقات معمول پر نہیں لانا چاہتے تو نہ لائیں مگر یہ کیا ہو رہا ہے ؟ میری عقل میں تو اس چھچور پن کی فوری وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی۔کیا آپ کی سمجھ میں آ رہی ہے ؟ اور یہ پاکستان اور بھارت ہر بار یہی کیوں کہتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر دشمن کی بلااشتعال فائرنگ سے اتنے بے گناہ سویلین ہلاک۔۔اگر یہ بلا اشتعال ہے تو اشتعال انگیز فائرنگ کیسی ہوتی ہے اور پھر پاگل کسے کہتے ہیں۔اور پھر دو ایسے پاگل جن کے ہاتھوں میں ایٹمی استرے ۔۔۔۔زرا سوچیے اور پھر کانپیے۔۔۔؟

میں مان ہی نہیں سکتا کہ آپ نے کبھی یہ محاورہ نہ سنا ہو۔

’اوچھے کے ہاتھ میں تیتر ، باہر رکھوں کہ بھیتر۔‘

اسی بارے میں