’الیکشن کمشنرز مستعفی نہیں ہوئے تو دھرنا دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چار اکتوبر کو میں اعلان کروں گا کہ ہم نے آگے کیا کرنا ہے: عمران خان

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر چار اکتوبر تک چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز مستعفی نہ ہوئے تو ان کے کارکنان الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے دھرنا دیں گے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی الیکشن کمیشنرز سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

سنیچر کی شام لاہور میں عمران خان نے اپنے کارکنان سے کہا کہ چار اکتوبر کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پہنچ جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنا دے گی تاہم آئندہ کی منصوبہ بندی بعد میں ہوگی۔

’اگر چار اکتوبر تک الیکشن کمیشن کے ممبران نے استعفیٰ نہ دیا، جن کے پاس رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے تو پھر چار اکتوبر کو میں بتاؤں گا کہ ہم آگے کیا کرنے جا رہے ہیں۔‘

عمران حان نے موجودہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا سے مخاطب ہو کر کہا کہ’ 2013 کے عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات اور دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کے رہنے کا کیا اخلاقی جواز رہ جاتا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے میں موجودہ چیف الیکشن کمشنر کا کوئی دخل نہیں کیونکہ یہ انتخابات کے بعد آئے ہیں۔

عمران خان نے بتایا کہ ان کی جماعت ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لےگی۔

اپنے امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جہانگیر ترین لودھراں سے جبکہ علیم خان لاہور سے ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ نے وزیراعظم نواز شریف کے نام پیغام میں کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ این اے 122 میں میرے اور آپ کے درمیان الیکشن ہو جائے، لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ لاہور کس کا ہے؟‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ 53 ہزار جعلی ووٹ سامنے آئے۔ انھوں نے کہا کہ جتنے بھی حلقے کھلیں گے جعلی ووٹ ہی سامنے آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اب تین حلقوں کے نتائج آ چکے ہیں اور اگر سیالکوٹ کے حلقے کو کھولا گیا تب بھی ایسا ہی نتیجہ آئے گا۔

گذشتہ ہفتے ہی الیکشن کمیشن نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں ریٹرنگ افسران کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنے کے لیے تحریک انصاف کے چیئرمین کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ کسی سیاسی جماعت کو جواب دہ نہیں ہے۔

الیکشن کمشنرز مستعفی ہوں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ضمنی انتخابات میں مشروط طور پر حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے انتخابات کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے تاہم اب دیگر ممبران مستعفی نہیں ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن پر پہلے ہی فیصلہ آ چکا ہے اور ان کی جماعت ضمنی انتخابات میں مشروط طور پر حصہ لیں گے۔

’ہم چاہتے ہیں کہ چاروں صوبوں کے الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران کو خود ہی مستعفی ہو جانا چاہیے، اگر کوئی آپ کو اس معاملے میں قانون سازی بھی کرنا پڑے تو کی جائے، انھیں لیکشن کمیشن میں نہیں ہونا چاہیے، ہمارا ضمنی انتخابات میں حصہ لینا مشروط ہے ان کے رہنے یا نہ رہنے سے۔‘

یاد رہے کہ الیکشن ٹربیونل نے لاہور کے حلقہ این اے 125 سے مسلم لیگ نون کے رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور این اے 122 سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور حلقہ این اے 154 سے آزاد امیدوار محمد صدیق خان بلوچ کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا۔

اسی بارے میں