جیوانی ایئر پورٹ پر حملے میں’دو اہلکار ہلاک، ریڈار سسٹم تباہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جہازوں کے شیڈول متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے پاس بیک اپ سسٹم موجود ہے‘

پاکستان کی سول ایوی ایشن کے حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں نامعلوم افراد کے جیوانی ہوائی اڈے پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ مقامی ہسپتال نے واقعے میں اغوا کیے جانے والے ایک انجینیئر کی لاش ملنے کی تصدیق کی ہے۔

سول ایوسی ایشن کے حکام کا کہنا تھا کہ اس ایئرپورٹ پر حملے میں ایک اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہو گیا تھا اور ایک الیکڑانک انجینیئر محمود نیازی کو حملہ آور اغوا کر کے لےگئے تھے۔

اس واقعے کے چند گھنٹے بعد جیوانی ہسپتال نے مغوی انجینیئر کی لاش ملنے کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل سول ایوی ایشن کے ترجمان پرویز جارج نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیوانی ایئر پورٹ ڈائریکشنل ریڈیو رینج جو نیوی گیشن کے کام آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے نتیجے میں ٹیکنیشن خلیل اللہ ہلاک جبکہ الیکٹرانک سپروائزر الطاف حسین زحمی ہوئے ہیں۔

پرویز جارج نے کہا کہ الیکٹرانک سپروائزر الطاف حسین کو کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔ ’ان کو جہاز کے ذریعے کراچی لے کر آیا جا رہا ہے اور ان کا جہاز دس بجے کراچی میں لینڈ کرے گا۔‘

پرویز جارج نے کہا کہ ’ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ جیوانی ایئر پورٹ پر نصب مواصلاتی نظام تقریباً تباہ ہو گیا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حملے اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچنے کے باعث پروازوں کا شیڈول متاثر نہیں ہو گا۔

’جہازوں کے شیڈول متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے پاس بیک اپ سسٹم موجود ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ ایئر پورٹ پروازوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا اور یہاں پر صرف نیوی گیشن سسٹم نصب تھا۔

ایس ایس پی گرخ بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ صبح ساڑھے چار بجے کیا گیا۔ ’ایئر پورٹ پر 12 حملہ آوروں نے حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں وی او آر ٹاور کو نقصان پہنچا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جیونی ایئر پورٹ پر لیویز تعینات تھی۔

’لیویز چند ماہ پہلے تک تعینات تھی۔ حالات بہتر ہونے کے باعث ان کو ہٹا لیا گیا تھا۔‘

واضح رہے کہ جیوانی ایئر پورٹ پاک ایران سرحد کے قریب واقع ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لیبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں