میں ہوں عادل لاہوڑی

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جائے گا۔پیش ہے چوتھی قسط

Image caption اندرون لاہور جس کے اندر مُغلوں کی بنائی ہوئی شاہکار عمارتیں صدیوں کی تھکن لیے اب پھر سے انگڑائیاں لے رہی ہیں

میری روح نے چار گھنٹے کی بھرپور نیند کا خلوصِ دل سے شکریہ ادا کیا اور زندگی کو دیکھے کے لیے تیار ہو گئی۔

سب مسافر ترو تازہ اور ہنستے مسکراتے بس میں سوار ہوئے کہ آج ہم نے اندرون لاہور گُھومنا ہے۔ وہ اندرون جس میں داخل ہونے کے لیے آپ کو لاہوری گیٹ، دھلی گیٹ اور موچی دروازے جیسے بزرگوں سے ملنا پڑتا ہے جس کے اندر مُغلوں کے بنائی ہوئی شاہکار عمارتیں صدیوں کی تھکن لیے اب پھر سے انگڑائیاں لے رہی ہیں۔

کُلاچ سے کیلاش تک: پہلی قسط

گنڈا سنگھ والے کا دنگل: دوسری قسط

قصہ قصور کا: تیسری قسط

صبح کی ٹھنڈک میں درختوں پہ آئے ہوئے بوُر کی خوشبو ابھی تک باقی ہے۔ ہماری بس گلبرگ چار سے نکل کر نہر کے گدلے بہاؤ کے ساتھ بہتی جا رہی ہے جس کے کنارے رنگ برنگ خوبصورت پھول اور سرخ پھولوں والے سبز درخت اور صاف صاف سے راستے۔ ان راستوں کے دائیں بائیں بڑے بڑے لان والے پرانے سرخ اینٹوں والے سرکاری بنگلے اور نئی عمارتیں خوابیدہ خوابیدہ سی ہیں۔

صبح چھ بجے کا جاگتا ہوا لاہور اس امیر آدمی کےفربہ لڑکے کی طرح پیارا لگ رہا تھا جو بنا منہ دھوئے بنا برش کیے صبح صبح آپ سے آ کر زور سے لپٹ جائے۔ صاحب کا بیٹے کی ہر ادا بھلی لگتی ہے۔ بھلے منہ نہ دھلا ہو مگر اس کی ریشمی نائٹی اتنی ملائم اور رنگین ہوتی ہے کہ آپ کواپنا منہ اور کپڑے میلے دکھنے لگتے ہیں۔ بسیار خوری کے باعث جس کی ڈِڈوُ بھی نکل آئی ہو جس کے موٹے موٹے گالوں کی چُٹکی لینے کو دل تو کرتا ہے مگر ہمت نھیں ہوتی۔ یہ مست بچہ ہمیشہ سے راجوں کا دُلارا جو رہا ہے۔ لاڈلاپن، ۔اکھڑ مزاجی اور یارباشی اب اس کا مزاج بن چُکا ہے۔

Image caption عادل لاہوری ایک انتہائی دلچسپ گائیڈ ہے۔ اس کی بول اور چال دونوں تیز گام ہیں

پتہ نہیں لاہوریوں نے لاہور کو ایسا بنا رکھا ھے؟ یا لاہور نے لاہوریوں کو اپنے جیسا۔ بہرحال دونوں ایک جیسے ہیں۔

ابھی میں دہلی گیٹ کے سامنے کھڑا یہ سب کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ تنگ سی گلی کے اندر سے ڈھول بجاتا ہوا ایک ڈھولچی برآمد ہوا اور اس کے ساتھ دو تگڑے لاہوری۔ ہاتھوں میں بسنتی رومال لیے، بانہیں پھیلائے تیزی سے ہماری طرف آئے۔

آؤ جی آؤ جی۔۔۔ بسم اللہ بسم اللہ۔ جی آیاں نوں کہتے ہوئے انہوں نےوہ رومال ہمیں پہناتے ہوئے زور زور سے جپھیاں ڈالیں۔ ان کی جپھیوں میں دیہاتی گرمجوشی تھی۔ آنٹی جی سلام علیکم۔ باجی جی آپ خیڑیت سے ہیں۔ او میرا پائی۔۔۔ ہر ایک سے باقاعدہ خیریت پوچھنے کے بعد اس درمیانے سے ذرا کم قد، موٹے سے پیٹ اور معصوم سے چہرے پرانگلش کٹ کی فیشنی داڑھی والے شخص کا نام اس کی شرٹ پر عادل لاہوری لکھا ہوا تھا۔

ہمیں دہلی گیٹ کے اندر گھسا کر بولنا شروع کیا اور بولتے بولتے، بتاتے بتاتے، گھماتے پھراتے، دیکھتے دکھاتے، ہنستے ہنساتے، پہلوان جی کی تھادل پلاتے اس کا شجرہ نسب بتاتے، پتلی گلیوں میں لے جاتے ان کی ٹھنڈی سیر کراتے، کبھی مندر کھبی مسجد، کبھی منڈی کھبی ہیرا، کہیں پرھاتہ کہیں پر آنکھ دباتے اور کبھی کچھ اور بتاتے اور پھر خدمت کرتے کرتے عادل لاہوری نے ونجلی پھونکی۔ ہاتھ ملایا، گلے لگایا، ماتھا چوم کے نعرہ مارا، جیوے جیوے پاکستان جیوے جیوے پاکستان۔

تصویر کے کاپی رائٹ Adil Jadoon
Image caption گھماتے پھراتے ہوئےعادل لاہوری موجودہ حکومت کے ہر ناقص کام پر آنکھ مار کر کہتا ’سڑ جی ۔۔۔ یہ شیمپو پڑوگڑام ہے‘

عادل لاہوری ایک انتہائی دلچسپ گائیڈ ہے۔ اس کی چال اوربول دونوں تیز گام ہیں۔ اردو میں بات کرتے کرتے وہ چناب ایکسپریس بن جاتا ہے۔ اور پھر اچانک اُڑدو بولنے لگتا ہے۔ پھر لاہور لاہوڑ ہو جاتا ہے۔ سواری سواڑی ہو جاتی ہے اور مہربانی مہڑبانی۔

گھماتے پھراتے ہوئے وہ موجودہ حکومت کے ہر ناقص کام پر آنکھ مار کر کہتا ’سڑ جی ۔۔۔ یہ شیمپو پڑوگڑام ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Adil Jadoon
Image caption مسجد وزیر خان میں ایک ٹھنڈی خاموشی آپ کی تھکن دور کر دیتی ہے

اس کے اندر ایک مخلص اور شرارتی نقاد ہے۔ وہ ہمیں نہ صرف مقامی لوگوں سے ملواتا بلکہ ان سے بے تکلف بھی کروا دیتا۔اس کے پیشورانہ انداز پہ اس کا دوستانہ پن حاوی تھا۔ مجھے لگا کہ اس نے گائیڈ بننے کا فیصلہ جیسے کچھ سوچ کے کیا ہے۔

جیسے اسے اصل کام سمجھ آ گیا ہو اور وہ یہ کہ مہمانوں کا دل سے استقبال کرے۔ انہیں پوری محبت دے۔ خلوص سے ان کی خاطر کرے۔

انہیں ہنسائے اور اپنی گوالمنڈی کا بہترین کھانا کھلائے اور ایسا پیار دے کہ سفر پہ نکلے ہوئے مسافر کا دل جھوم اُٹھے۔

اور آنے والا چاہے کوئٹہ کا ہو یا کراچی کا یا انٹر نیشنل ناراض، بس وہ خوش ہو جائے۔ اس طرح کرنے سے شاید کچھ بات بن جائے۔

مجھے لگا وہ ’لاہور بچہ‘ جسے اپنا منہ دھونے کی نہ پرواہ ہے اور نہ عادت، عادل لاہوڑی اس بچے کے منہ پر ایک گیلا ٹشو پیپر پھیر کر اس کا منہ صاف کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ کام اپنا فرض سمجھ کے کر رہا ہے۔

Image caption میں سوچنے لگا لاہور کے گوالمنڈی کی طرح، کراچی کے پاکستان چوک کی عمارتیں اتنی رنگین نہیں کی جا سکتیں؟

عادل! تمہارا پیار بھرا بسنتی رومال میرے ساتھ رہے گا۔

اسی بارے میں