مردان میں پولیس پر حملہ، دو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حملے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں میں تلاشی کا عمل تیز کردیا ہے اور چند مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر مردان میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے ایک حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح سات بجے کے قریب مردان شہر سے تقریباً تین کلومیٹر دور صوابی روڈ پر شاہ ڈھنڈ قبرستان کے سامنے پیش آیا۔

مردان پولیس کے ایک اہلکار یاسین شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مردان ضلعی پولیس کے دو اہلکار ناظمین اور کونسلروں کی ایک تقریب کی سکیورٹی دینے کےلیے موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ اس دوران ان پر مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس میں دونوں اہلکار ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ حملہ گھات لگا کر کیا گیا یا حملہ آوارں کسی گاڑی میں سوار تھے۔ ان کے مطابق حملے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں میں تلاشی کا عمل تیز کردیا ہے اور چند مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔

خیال رہے کہ مردان میں پہلے بھی پولیس اہلکاروں پر حملے ہوتے رہے ہیں جس میں ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔ تاہم کچھ عرصہ سے مردان میں تشدد کے واقعات میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ آمر بھی اہم ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد سے مجموعی طورپر قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں پچاس فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پشاورمیں بھی حالیہ دنوں میں پولیس اہلکاروں پر حملے بڑھے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ حالیہ دنوں میں قبائلی علاقوں میں بھی ہدف بناکر قتل کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جن میں باجوڑ، مہمند اور کرم ایجنسی کے علاقوں قابل ذکر ہیں۔

اسی بارے میں