’الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی‘، متحدہ کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ماہ الطاف حسین نے ٹیلیفونک خطاب میں رینجرز پر تنقید کی تھی جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اُن کے خلاف 100 سے زیادہ مقدمات درج ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ہائی کورٹ نے سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل بنچ نے یہ احکامات ایک ہی نوعیت کی تین مختلف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیے ہیں۔

تاہم ایم کیو ایم نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے مدعا علیہان کو اپنے جوابات سات ستمبر تک جمع کرانے کے لیے کہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عدالت نے اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ سات ستمبر کو عدالت میں پیش ہوں۔

بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق ہائی کورٹ کی جانب سے الطاف حسین کی تقاریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی کی خبر درست نہیں اور نہ ہی پیمرا یا کسی دوسرے متعلقہ ادارے کو اس سلسلے میں کوئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

مذاکرات میں معاملہ تقاریر کا ہے یا آپریشن کا؟

لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی جانے والی درخواستوں میں الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت سے یہ جواب بھی مانگا ہے کہ آیا الطاف حسین نے برطانوی شہریت لینے کے بعد پاکستانی شہریت چھوڑی ہے یا نہیں؟

پیر کو سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نےدلائل میں کہا کہ الطاف حسین فوج ،رینجرز اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں اور الطاف حسین کی تقاریر ملکی سالیمت اور وقار کے منافی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الطاف حسین کی ان تقاریر سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

وکلا نے فل بنچ کو بتایا کہ الطاف حسین کے بیانات آئین کے آرٹیکل چھ کے زمرے میں آتے ہیں اس لیے ان کے خلاف وفاقی حکومت کو غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

سماعت کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری، سیکریٹری کابینہ ڈویڑن اور سیکرٹری داخلہ سے جواب مانگ لیا اور ہدایت کی کہ شق وار جواب سات ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

خیال رہے کہ رواں برس 12 جولائی کو الطاف حسین کی جانب سے ٹیلیفونک خطاب میں رینجرز پر تنقید کی گئی تھی جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اُن کے خلاف 100 سے زیادہ مقدمات درج ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MQM
Image caption ایم کیو ایم نے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے استعفے دے رکھے ہیں تاہم حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات جاری ہیں

الطاف حسین نے 12 جولائی کو کراچی میں کارکنان کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب میں کہا تھا کہ ’ہم فوج کے نہیں بلکہ فوج میں موجود گندے انڈوں کے خلاف ہیں۔ جنرل راحیل شریف خدارا پاکستان کو بچا لیں اور فوج سے ان گندے انڈوں کو نکالیں جنھوں نے سویلینز کی طرح کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن کی ہے۔‘

انہوں نے اپنی اسی تقریر میں ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بلال اکبر پر ایم کیو ایم کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے، کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ وہ وائسرائے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

الطاف حسین نے الزام لگایا تھا کہ میجر جنرل بلال اکبر نے اپنے حلف کو توڑا ہے اس لیے وہ استعفیٰ دے دیں اور دو سال انتظار کرنے کے بعد اپنی سیاسی جماعت بنا لیں۔

ان کی اس تقریر کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ الطاف حسین کراچی میں رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وجہ سے مشکلات کا شکار نہیں ہیں بلکہ یہ ان کی اپنی زبان ہے جس کی وجہ سے وہ مشکلات سے دوچار ہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ حکومت الطاف حسین کے خلاف برطانوی حکومت کو ریفرنس بھیجے گی جسے ملکی اور برطانوی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں