’ریفرنس پر فیصلے تک استعفوں کا کوئی امکان نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لائرز فورم کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیے گئے ریفرنس پر فیصلہ آنے تک کمیشن کے ارکان مستعفی ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔

پیر کے روز الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں کچھ سیاسی جماعتوں کی طرف سے کمیشن کے ارکان کے مستعفی ہونے کے مطالبے پر تفصیل سے غور کیا گیا، تاہم اس میں ارکان کے مستعفی ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے لائرز فورم نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھا ہے اس لیے جب تک اس ریفرنس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اُس وقت تک الیکشن کمیشن کے ارکان مستعفی ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔

ادھر الیکشن کمیشن کے تین ممبران نے مستعفی ہونے کے بارے میں کسی بھی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان ارکان نے چیف الیکشن کمشنر پر واضح کیا ہے کہ چونکہ ان کا ایک آئینی عہدہ ہے اس لیے وہ اس عہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے کسی طور پر بھی مستعفی نہیں ہوں گے۔

دو روز قبل پاکستان کے مقامی میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ الیکشن کمیشن کے چار ارکان میں سے تین ارکان نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور صوبہ سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر شامل ہیں، جبکہ بلوچستان کے الیکشن کمشنر رخصت پر چلے گئے ہیں۔

دو روز سے یہ خبریں نہ صرف پرنٹ میڈیا پر شائع ہوئیں بلکہ اس پر متعدد ناک شوز بھی ہوئے لیکن اس دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے الیکشن کمیشن کے ارکان کو مستعفی ہونے کے لیے چار اکتوبر تک کی مہلت دے رکھی ہے

الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق ان ارکان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اُن کا کام پالیسی بنا کر دینا ہے جبکہ اس پر حکمت عملی اختیار کرنا چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے۔

الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کو سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں 2011 میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے درمیان مشاورت سے پانچ سال کے لیے صوبائی الیکشن کمشنرز کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور ان کے عہدے کی معیاد اگلے سال مئی میں ختم ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کے لیے چار اکتوبر تک کی مہلت دی ہے اور دھمکی دی ہے کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ان کی جماعت الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دے گی۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ان ارکان نے مستعفی ہونے کے بارے میں عمران خان کے موقف کی تائید کی ہے۔

ماہر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشن کے ارکان کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کے دو ہی طریقے ہیں: ایک یہ کہ وہ خود مستعفی ہو جائیں اور دوسرا یہ کہ اُن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جائے، جس طرح اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف دائر کیا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کسی ایک رکن کے مستعفی ہونے سے کمیشن مکمل نہیں رہے گا جس کی وجہ سے ملک میں ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں صوبہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈیول کا اعلان کر رکھا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حقلہ 122 اور 154 میں ضمنی انتخابات کے شیڈیول کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق 14 اور 15 ستمبر کو کاغذات نامزدگی داخل کروائے جاسکیں گے۔

17 ستمبر کو کاغدات نامزدگی واپس لینے کے علاوہ کسی بھی اُمیدوار کے کاغذات نامزدگی کے خلاف درخواستیں دائر کی جا سکیں گی جن کی سماعت 19 ستمبر کو ہو گی۔ 21 ستمبر کو اُمیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی جبکہ ان حلقوں میں پولنگ 11 اکتوبر کو ہو گی۔

اسی بارے میں