شدت پسندوں کو شناختی کارڈ دینے والوں کے خلاف کارروائی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نادرا کے مطابق پاکستان میں شدت پسندوں اور غیر ملکیوں کو جعلی قومی شناختی کارڈ جاری کرنے والے نادرا کے 120 سے زائد اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا رہی ہے۔

یہ بات قومی شناختی کارڈ جاری کرنے والے ادارے نادرا کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز سید مظفر علی نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی۔

نادرا کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نے بتایا کہ ’گذشتہ تین سے چار ماہ کے دوران ہم نے جعلی شناختی کارڈوں کے اجرا اور بدعنوانی کے دیگر واقعات میں ملوث 40 سے زیادہ اہلکاروں کو برطرف کیا ہے۔ ان میں ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کی سطح کے اہلکار بھی شامل ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید مظفر علی کا کہنا تھا کہ جعلی شناختی کارڈ بنانے میں مدد دینے کے 140 واقعات سامنے آئے ہیں اور ان میں شامل 120 اہلکاروں کے خلاف محکمانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے نادرا کے چیئرمین کو ایک رپورٹ بھیجی گئی تھی جس کے مطابق نادرا کے اعلیٰ حکام سمیت 40 اہلکاروں نے جعلی شناختی کارڈ لینے میں انتہاپسندوں کی مدد کی تھی۔

آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق متعدد چھاپوں کے دوران ملکی اور غیر ملکی انتہاپسندوں سے پاکستانی پاسپورٹ اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ برآمد ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

نادرا کو دی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم القاعدہ کے بعض سینیئر رہنماؤں کے پاس سے بھی پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔

تحقیقات کے بعد نادرا کو بتایا گیا کہ کراچی کے علاقے کیماڑی میں قائم نادرا سینٹر نے دس سے 20 ہزار روپے کی رشوت لے کر افغان اور بنگالی باشندوں کو شناختی کارڈ جاری کیے، جبکہ نادرا کے لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مراکز سے متعلق مصدقہ شواہد موجود ہیں کہ وہ بھی غیر ملکی باشندوں کو جعلی شناختی کارڈ جاری کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق ملکی اور غیر ملکی انتہاپسندوں سے پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ برآمد ہوئے

نادرا کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز سید مظفر علی نے کہا کہ انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے نافذ العمل قومی ایکشن پلان کے تحت وزارت داخلہ کی جانب سے نادرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ ادارے میں بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اپنائی جائے۔

ان کا کہنا تھا: ’حکومتی احکامات کے بعد سے نادرا ایسے اہلکاروں کی چھان بین کر رہا ہے جن پر بدعنوانی کا شبہ ہے۔‘

انتہاپسندوں کو کمپیوٹرائزڈ جعلی شناختی کارڈ جاری کرنا کیا سکیورٹی بریچ یا قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں؟ اس پر سید مظفر علی نے کہا کہ ’اس سلسلے میں نادرا ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ ذمہ دار اہلکاروں کو سزا دی جائے۔

’ہمارے پاس اہلکاروں کا آن لائن ڈیٹا بیس موجود ہے، اس لیے ہمیں غیر قانونی حرکتوں میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے سڑکوں پر نہیں جانا پڑتا۔ ہم نے ان کی نشاندہی کرنے کے بعد کارروائی شروع کر دی ہے۔‘

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ چوہدی نثار علی خان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ نادرا نے 2011 میں 26، 2012 میں 493، 2013 میں 6000، 2014 میں 22 ہزار جبکہ اس برس 64 ہزار جعلی شناختی کارڈ جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں