شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، کم از کم پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں میں ایک امریکی ڈرون حملے میں کم از کم پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ ڈرون حملہ منگل کی شب شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں کیا گیا۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر دو میزائل داغے گئے جس سے پانچ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔‘

اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والی شناخت کے بارے میں تاحال واضح نہیں ہے تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں غیرملکی شدت پسند بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے آغاز میں بھی شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں کم از کم چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سنہ 2004 سے امریکی ڈرون طیاروں کے حملے جاری ہیں جس کی تعداد ایک اندازے کے مطابق اب چار سو تک پہنچ گئی ہے۔ ان حملوں میں سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی شدت پسند مارے جاچکے ہیں جن میں بعض اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے آپریشن ضرب عضب بھی جاری ہے جس کی وجہ سے ایجنسی کا نوے فیصد علاقے شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔

پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئےامریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہےجبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

پاکستان میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کر چکی ہیں

اسی بارے میں