چین میں ’یوم فتح‘ پریڈ کی تیاریاں عروج پر

تصویر کے کاپی رائٹ Xinhua
Image caption تین ستمبر کو یوم فتح پریڈ کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں

چین میں رئیلیٹی ٹی وی کے مداحوں کو شاید اپنا ٹیلیویژن اگلے کچھ دن تک بند رکھنا پڑے کیونکہ مک کے تمام ٹی وی چینلوں پر جاپان مخالف جنگی ڈراموں اور دستاویزی فلموں نے جگہ لے لی ہے۔

حکومت نے تمام تفریحی پروگراموں پر پابندی لگا دی ہے جن میں مشہو رئیلیٹی شو وائس آف چائنا ورائٹی شو ’ہیپی کیمپ‘ بھی شامل ہے۔

اس کامقصد تین ستمبر کو ہونے والی یومِ فتح پریڈ کے لیے لوگوں میں جوش پیدا کرنا ہے، جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 70 سال منانے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔

کچھ لوگوں نے اس کو اقدام کو حب الوطنی کہا ہے لیکن ہر کوئی اس سے متاثر نہیں ہوا۔

چین کی ٹوئٹر کی طرز کے ایک نیٹ ورک ویبو کے صارف یازیزی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک غافلانہ برین واشنگ ہے۔‘ جبکہ ایلیکس ہوئیر کا کہنا ہے کہ ’فاتح ملک تفریح پر پابندی لگا رہا ہے۔ جبکہ ہارنے والے ناچ گانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ غیر منطقی نہیں ہے؟‘

ٹی وی پروگراموں کے علاوہ چار اور ایسی پابندیاں ہیں، جو غیر متوقع نہیں ہیں، جن کے ذریعے چین جمعرات کو ہونے والی پریڈ کو بہترین بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پرندوں پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چینی حکام نے کبوتر بازوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے کبوتروں کو اڑنے سے پرہیز کریں

چین نے مکاک نسل کے بندروں اور بازوں کو جمع کیا ہے تاکہ پریڈ کے دن وسط بیجنگ کا آسمان پرندوں سے صاف رہے، کیونکہ پرندے لڑاکا طیاروں کے انجن سے ٹکرا سکتے ہیں جن سے طیاروں کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

چین کے میڈیا کے مطابق مکاک بندروں کو درختوں پر چڑھنے کی تربیت دی گئی تاکہ وہ وہاں پرندوں کے گھونسلوں کو پریڈ شروع ہونے سے پہلے ہی برباد کر دیں گے۔

بندروں کو تربیت دینے والے ٹرینر نے کا کہنا ہے کہ بندر ایک دن میں چھ سے آٹھ گھونسلے‘ تباہ کر سکتے ہیں، اور اپنی مہک بھی درختوں پر چھوڑ دیتے ہیں جو پرندوں کو وہاں دوبارہ گھونسلے بنانے سے روکتی ہے۔

اس کے علاوہ بازوں کے آسمان پر چکر لگوائے جا رہے ہیں تاکہ وہ دوسرے پرندوں کو وہاں سے ڈرا کر بھگا دیں۔

کچھ لوگوں کو ایسےاقدامات حد سےزیادہ لگے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ برطانیہ میں بھی بعض جگہوں پر کبوتروں اور دوسرے چھوٹے پرندوں کو آسمان سے دور رکھنے کے لیے بازوں کا استعمال کیا جاتاہے۔ ان جگہوں میں ومبلڈن ٹینس گراؤنڈ بھی شامل ہے۔

دریں اثنا حکام نے پریڈ کے دوران کبوتروں کے آسمان پر اڑنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کبوتروں کی افزائشِ نسل والوں کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ پریڈ کے دن ان کو نہ چھوڑیں۔

نیلا آسمان

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption روسی صدر ولادی میر پوتن فتح پریڈ دیکھنے کے لیے چین پہنچے ہیں

حالیہ سالوں میں بیجنگ اپنی فضائی آلودگی کی وجہ سے سے بدنام ہوا ہے۔ شدید دھویں کی صورت میں لوگ ماسک پہنے بغیر باہر نہیں نکل سکتے۔

لیکن چین کی حکومت یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ اگر وہ چاہے تو وہ موسم کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔

2014 کے سربراہی اجلاس میں بیجنگ میں صاف اور نیلا آسمان دکھائی دیا جب حکام نے فیکٹریوں کو کام کرنے سے روک دیا، تعمیراتی کام کو آہستہ کروا دیا اور سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کو محدود کر دیا۔

بیجنگ نے یومِ فتح کی پریڈ میں صاف آسمان کو یقینی بنانے کا عہد کر رکھاہے۔ حالانکہ کچھ مقامی لوگوں نے سوشل میڈیا پر کہاہے کہ حکومت کو عام آدمی کے لیے بھی فضا کو بہتر بنانے کی کوششں کرنی چاہیے۔

دبلے پتلے جرنیل

جرنیلوں کی اعلیٰ قطار پریڈ کی قیادت کرے گی جس میں بہتر نظر آنے کے لیے انہیں کچھ قربانیاں دینی ہوں گی۔

سرکاری میڈیا رپورٹ کےمطابق 50 سے زیادہ جرنیل جو 53 سال کی عمر سے معمر ہیں، پریڈ میں حصہ لیں گے۔ ہر جرنیل کو اوسطاً پانچ کلو وزن کم کرنے کے لیے سخت تربیت دی جا رہی ہے۔

چین کے سرکاری اخبار چائنا ڈیلی کے مطابق ان کو ’پریڈ میں کھڑے ہونے کے بہترین انداز‘ کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

سکیورٹی اور سنسرشپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام بندروں کی مدد سے درختوں پر پرندوں کے گھونسلے ختم کروا رہے ہیں

چین کے میڈیا کو فوج کی مثبت کوریج کرنے کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔

چین کی حکومت نے انٹرنیٹ پر سخت اختیار برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس لیے اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر بھی نگرانی کر رہی ہے کہ لوگ پریڈ شروع ہونے سے پہلے کیا باتیں کر رہے ہیں۔

چین کی سنسرشپ پر رپورٹ کرنے والی ویب سائٹ چائنا ڈیجیٹل ٹائمز کے مطابق حکومت نے میڈیا کو ہدایات جاری کر دی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پریڈ کے متعلق خبریں اور تبصرے لازماً ’مثبت‘ ہونے چاہییں، جبکہ تمام ویب سائٹوں کو کہا گیا ہے کہ ’انٹرنیٹ پر مثبت تبصروں کے فروغ کے لیے فعال ہو جائیں۔‘

بیجنگ کے میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پریڈ کے دن بیجنگ کی کئی سڑکیں بند کر دی جائیں گی جبکہ بہت سے ہسپتالوں کو باہر کے مریض (آؤٹ پیشنٹ) لینے سے منع کر دیا گیاہے، البتہ ایمرجنسی کے شعبے کھلے رہیں گے۔

درین اثنا بیجنگ کی اہم شاہراہ چانگ آن ایوینیو، جہاں یہ پریڈ منعقد ہو گی، کے اطراف رہنے والے رہائشیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ پریڈ کے دوران اپنی کھڑکیاں نہ کھولیں۔ ایک رہائشی نے سوشل میڈیا پر اعتراض کیاہے کہ اس اعلان کا مقصد یہ لگتاہے کہ ان کو جعرات کو ہونے والی ’پریڈ اپنی کھڑکیوں سے دیکھنے سے گریز کرنے کو کہا جا رہا ہے۔‘

بیجنگ کی حکومت پریڈ سے پہلے صاف فضا کو یقینی بنانا چاہتی ہے جس کے لیے حالیہ ہفتوں کے دوران گرم ہوا کے غبارے اور ہینگ گلائیڈرز اڑانے پر پابندی لگانا شامل ہے۔

اسی بارے میں