’ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہشت گردی کا خاتمہ کر کے پاکستان عالمی برادی کو مستقل امن کا تحفہ دینا چاہتا ہے

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور اس کے بعد ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے فائرنگ پورے خطے کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

سرحد پر فائرنگ اور دہشت گردی کی کڑیاں ملتی ہیں

بدھ کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ میں سپورٹس سٹیڈیم کی افتتاحی تقریب کے موقعے پر خطاب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ عالمی طاقتوں اور اقوامِ متحدہ کو ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کی صورت حال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان طے شدہ ملاقات بھی ملتوی ہوگئی تھی۔

بھارت کا نام لیے بغیر نواز شریف نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے بعد کچھ عرصے سے ورکنگ باؤنڈری پر بھی پاکستانیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عالمی دنیا کو اس سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے اقدامات کی پوری دنیا معترف ہے۔

’دہشت گردی کا خاتمہ کر کے پاکستان عالمی برادی کو مستقل امن کا تحفہ دینا چاہتا ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ’امن کی خواہش ہماری طاقت ہے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے تاہم وہ اپنے ترقیاتی کام جاری رکھے گی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت توانائی کی کمی کو اپنی مدت کے اندر پوری کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ بھی کرے گی۔

انھوں نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت فتنہ پھیلانے والی تنظیموں کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کراچی آپریشن پر وہاں کے عوام خوش ہیں۔

’دو سال ہو گئے ہیں کراچی آپریشن کو شروع ہوئے، وہاں بہت حد تک امن قائم ہو چکا ہے، اغوا برائے تاوان بہت حد تک ختم ہو چکا ہے، ٹارگٹ کلنگ بہت حد تک ختم ہو چکی ہے۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ملک دہشت گردوں کے لیے اور لوڈشیڈنگ کے لیے نہیں بنا تھا۔

’پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور مسلم لیگ کی حکومت جب بھی اقتدار میں آئی اس کا ایجنڈا ترقیاتی تھا۔‘

نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے صرف موٹروے نہیں بنائی بلکہ ملک کی دفاعی ضروریات کا خیال رکھا جس کی وجہ سے ملک ایٹمی قوت بنا۔

نواز شریف نے گذشتہ حکومتوں سے سوال کیا کہ انھوں نے دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں کیا اور توانائی کے لیے منصوبے کیوں نہیں بنائے؟

اسی بارے میں