پشاور میں شدید بارش اور طوفان سے پانچ افراد ہلاک، 30 سے زائد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی ڈی ایم اے کے مطابق شہر کے کئی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں طوفانی بارش اور تیز ہوائیں چلنے کے باعث کئی مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرگئی ہیں جس سے کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ پشاور شہر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شدید بارش اور تیز ہوائیں چلنے سے کئی مقامات پر گھروں کی چھتیں اور دیواریں گر گئی ہیں۔

بیان کے مطابق مختلف واقعات میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق شہر کے کئی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کے ایک علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے 15 کے قریب رکشے جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔

تاہم صوبے کے کسی اور علاقے سے طوفان یا باد وباران کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

محمکہ موسمیات کے مطابق پشاور میں گذشتہ رات آنے والے طوفان کی رفتار 93 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی جس سے زیادہ نقصان مضافاتی علاقوں میں ہوا ہے۔

شہر میں 47 ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش کی پیشں گوئی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے خیبر پختونخوا بالخصوس پشاور شدید بارشوں اور تباہ کن طوفانوں کے زد میں رہا ہے جس میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رواں سال اپریل میں پشاور میں شدید بارشوں اور طوفان نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی جس میں 50 کے قریب افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ گذشتہ ماہ میں بھی پشاور شہر اور اس کے اطراف کے علاقے تین مرتبہ چھوٹے بڑے طوفان کی زد میں آئے جس میں 30 کے قریب افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

ان قدرتی آفات کی وجہ سے صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر مالی نقصانات بھی ہو چکے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ وقتوں میں بارشوں اور طوفانوں میں شدت آنے کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جبکہ خیبر پختونخوا بالخصوص ان اثرات کی زد میں رہا ہے۔

اسی بارے میں