’سرکاری اراضی کا استعمال مالِ مفت کے طور پر نہ کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے

سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم کو زرعی تحقیق کے ادارے ’نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ سینٹر‘ (این اے آر سی) کی زمین پر رہائشی کالونی بنانے سے متعلق سمری پر کارروائی سے روک دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر بااثر افراد کو اسلام آباد میں اپنے محل بنانے ہیں تو وہ خود زمینیں خرید کر بنائیں، سرکاری اراضی کو مالِ مفت کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم نواز شریف کو این اے آر سی کی جگہ پر رہائشی کالونی بنانے سے متعلق سمری ارسال کی تھی۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ’ن‘ کے اسلام آباد سے منتخب ہونے والے رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل پر الزام ہے کہ وہ این اے آرسی کی اس زمین پر رہائشی کالونی بنانے کے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ خوراک کے وفاقی وزیر سکندر حیات بوسن نے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی۔

چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو این اے آر سی کے ملازمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سنہ 1977 میں زرعی اجناس پر تحقیق کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے سی ڈی اے سے 1,300 ایکڑ اراضی لیز پر لی گئی تھی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اس لیز کی مدت سنہ 2005 میں ختم ہو گئی تھی لیکن وہاں ابھی تک غیر ملکی اداروں کے ساتھ مل کر زرعی اجناس پر تحقیق ہو رہی ہے۔

ایک درخواست گزار محمد الطاف نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے نے اس زمین پر رہائشی کالونی بنانے کے لیے کابینہ ڈویژن کو ایک سمری بھجوائی تھی جسے سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے منظوری کے لیے وزیر اعظم کو بھجوا دیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اگر زرعی اجناس پر تحقیق رک گئی تو زرعی شعبے میں ترقی کا عمل متاثر ہو گا۔

سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ این اے آر سی کو دی جانے والی لیز ختم ہوگئی ہے اس لیے اب یہ سی ڈی اے کا اختیار ہے کہ وہ اس زمین کو جس طرح چاہے استعمال میں لائے۔ اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ زمین لوگوں کے پیسے سے خریدی گئی ہے اور یہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو محل بنانے کے لیے جگہ چاہیے تو وہ خود جا کر زمین خریدے، سرکاری زمین پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش نہ کرے۔

عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ ہونے تک وزیر اعظم کو اس سمری پر مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں