’ آپریشن ضرب عضب پر قومی خزانے سے دو ارب ڈالر خرچ کر چکے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ گذشتہ ایک سال جاری دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے رقم پاکستان کی حکومت نے مہیا کی ہے

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک میں فوج کی زیر نگرانی دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب پر اب تک تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور یہ رقم امریکہ کی جانب اتحادی سپورٹ فنڈ کے بجائے سرکاری خزانے سے استعمال کی گئی ہے۔

جمعے کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ گذشتہ ایک سال جاری دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے رقم پاکستان کی حکومت نے مہیا کی ہے۔

امریکی امداد کی بندش سے پاکستان کو فرق پڑے گا؟

سکیورٹی خدشات پر پاکستانی سفارتی عملہ کمپاؤنڈ تک محدود

انھوں نے بتایا کہ آپریشن ضربِ عضب اور متاثرہ علاقوں سے مقامی افراد کی نقل مکانی اور اُن کی بحالی پر اب تک ایک ارب 90 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2001 میں افغانستان میں امریکہ افواج کے حملے کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہونے کے بعد پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت 13 ارب ڈالر ملے ہیں۔

تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ سنہ 2015 کے بعد سے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت رقوم جاری نہیں کی جائیں گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت امریکہ کی قابلِ ادا رقوم آپریشن ضربِ عضب سے پہلے کی ہیں اور فنڈ کی ریلیز کے امریکہ حکومت سے بات چیت جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر کے حالیہ دورےِ پاکستان کے دوران دفاع، سکیورٹی، تجارت اور انسدادِ دہشت گردی کے امور پر تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے حکام کے درمیان ملاقات طے شدہ شیڈیول کے مطابق نو ستمبر کو دہلی میں ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مشیر خارجہ سرتاج عزیز ایک روزہ دورے پر کابل گئے ہیں

ترجمان نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے کابل دورے کے بارے میں بتایا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے اپنی کوشش جاری رکھے گا۔

انھوں نے کہا کہ طالبان اور افغان حکومت سے مذاکرات کے اگلے مرحلے میں پاکستان سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز افغان حکام سے ملاقات میں کابل میں پاکستان سفارت خانے کے اہلکاروں کی حفاظت اور سکیورٹی کو یقینی بنانے اور افغانستان میں پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے کے بارے میں بات کریں گے۔

انھوں نے کہا پاکستان افغانستان سے دوستانہ روابط اور اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

اسی بارے میں