’حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ کس کے پاس ہے؟‘

بی بی سی اردو نے سماجی کارکن جبران ناصر اور میڈیا مبصر فیصل قریشی کو اپنے گوگل ہینگ آؤٹ میں مدعو کیا جس میں میزبان عالیہ نازکی نے شرکا سے اس سوال پر گفتگو کی کہ ’حُب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ کس کے پاس ہے؟‘ اور یہ کہ ’اختلافِ رائے پر ذاتی حملے کیوں کیے جاتے ہیں؟‘

ہینگ آؤٹ کے آغاز میں فیصل قریشی نے اپنی ویڈیو کا دفاع کیا جس میں انھوں نے بالی وُڈ اداکار سیف علی خان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی فلم فینٹم پر تنقید کی کہا کہ ’اگر ان کی ویڈیو غیر اہم ہوتی تو اس پر اتنی بڑی بحث کیوں چھڑتی اور اس پر بات کیوں کی جاتی؟‘

فیصل قریشی نے کہا کہ ’اگر کوئی میری ماں کو گالی دے گا تو میں اس کے ساتھ جا کر پیار محبت کی باتیں نہیں کروں گا۔‘

اس پر ہینگ آؤٹ کے دوسرے شریک مبصر جبران ناصر نے کہا کہ لوگوں کو تبصرہ کرنے سے پہلے یاد رکھنا چاہیے کہ ’آپ رول ماڈل ہیں اور آپ کی پولیٹیکل کریکٹنس یا سیاسی درستگی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔‘

بی بی سی اردو کا ہینگ آؤٹ فیس بک پر دیکھنے کے لیے کلک کریں

بی بی سی اردو کا ہینگ آؤٹ گوگل پلس پر دیکھنے کے لیے کلک کریں

بی بی سی اردو کا ہینگ آؤٹ یو ٹیوب پر دیکھنے کے لیے کلک کریں

یاد رہے کہ فینٹم اور اس کے بعد سیف علی خان کے بیانات پر پاکستانی سوشل میڈیا اور ٹی وی پر گرما گرم بحث جاری رہی جس میں اداکار شان اور حمزہ علی عباسی بھارت جا کر کام کرنے والے اداکاروں اور فلم فینٹم پر تنقید کرتے رہے جبکہ نوجوان اداکارہ ماورا حسین نے ان سب باتوں کی حمایت کی۔

ایک فلم کی بنیاد پر بھارت پر تنقید کے سوال پر فیصل قریشی نے کہا کہ ’سیف علی خان کی 55 کروڑ کی فلم تھی جس کے کیمرے تین تین، چار چار لاکھ روپے کے تھے۔ میری بھی 55 روپے کی فلم تھی کیمرا صرف 60 ہزار روپے کا تھا۔ میری فلم اتنی تکلیف دہ کیوں ہوئی؟ اگر وہ فنکار ہیں تو میں بھی فنکار ہوں انھوں نے بھی سکرپٹ پڑھ دیا اور میں نے بھی سکرپٹ پڑھ دے گا۔ وہ عورتوں کے لباس پہن کر ناچیں اور عورتوں کو کم تر دکھائیں تو کوئی مسئلہ نہیں میں نے انھیں بیٹی کہہ دیا تو مسئلہ۔‘

فیصل قریشی نے کہا کہ ’میں نے اس شخص (سیف علی خان) کی تضحیک یقیناً چاہی اور میں اس شخص کی اسی لفظ سے تضحیک کروں گا جو وہ نہیں ہے۔‘

جب فیصل قریشی سے پوچھا گیا کہ آپ کا مقصد تو تضحیک ہی تھا، تو انھوں نے کہا کہ ’جنھوں نے میری باتوں کو عورتوں کے خلاف حملہ اور ان کی تضحیک سمجھا وہ معذرت کے ساتھ اُن کی ذہنیت، ان کی تربیت، اُن کے ذہنی آلودگی کا قصور ہے۔ میں نے ایس کوئی بات نہیں کہی۔‘

جبران ناصر نے کہا کہ ’ہمارے معاشرے کا مسئلہ یہی ہے کہ چوڑیاں پہننا تذلیل کیوں ہے؟ جس کلچر سے ہم لڑ رہے ہیں وہ یہ بھی ہے کہ ہم بڑے فخر سے بول دیتے ہیں کہ یہ بچی ہمارا گھر چلا رہی ہے یہ ہمارا بیٹا بھی ہے۔ اس نے بیٹے کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔‘

جبران کا کہنا تھا کہ ’سیف علی خان پر تنقید بہت سے طریقوں سے کی جا سکتی تھی۔‘

قومی مفاد کا خیال رکھنے کے نکتے پر جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے قومی مفاد پر اتنی ہی بات کرنی ہے تو آئیں تو ہم ویڈیوز بنا کر ثبوت دیتے ہیں لشکرِ جھنگوی کے خلاف، سپاہِ صحابہ کے خلاف، ہم طالبان کےحملوں پر تنقید کرتے ہیں، ہم لشکرِ جھنگوی کے حملوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

’ہم کیا کال آؤٹ (چیلنج) کر رہے ہیں بالی وڈ کے ایک اداکار کو؟ واقعی؟ ملک کے اندر اتنے قاتل بیٹھے ہوئے ہیں جو ہماری لاشیں گرا رہے ہیں جنھوں نے 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کو مار دیا ہوا ہے۔ آئیں ان کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔‘