پروین رحمان قتل: ملزم کا بیٹا اور بیوی حراست میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں 13 مارچ 2013 کو اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان بنارس بائی پاس پر ایک حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں سماجی کارکن پروین رحمان کے قتل میں ملوث ملزم رحیم سواتی کے بیٹے اور بیوی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس سرمد جلال اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل بینچ نے جمعے کو پروین رحمان قتل کیس کی سماعت کی، جس میں تفتیشی افسر ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ کا کہنا تھا کہ ملزم احمد خان عرف پپو شاہ عرف کشمیری کو مانسہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کی نشاندہی پر سوات میں چھاپہ مارا گیا لیکن مرکزی ملزم رحیم سواتی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم کا مکان منہدم کر دیا گیا ہے جبکہ بیٹے ندیم اور بیوی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے رحیم سواتی کی گرفتاری کے لیے گھیرا تنگ کر لیا ہے۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کا تبادلہ خیرپور کر دیا گیا ہے اس لیے وہ تحقیقات جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ عدالت نے ان کی درخواست قبول کر لی اور تحقیقات ایس پی سائٹ ساجد صدوزئی کے حوالے کر دی گئیں۔

یاد رہے کہ کراچی میں 13 مارچ 2013 کو اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان بنارس بائی پاس پر ایک حملے میں قتل کر دی گئی تھیں۔

ماہر آرکیٹیکٹ پروین رحمان داؤد انجینیئرنگ کالج میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دیتی تھیں لیکن انھوں نے خود کو فلاحی کاموں کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ شہر کی ترقی خصوصاً پانی کی فراہمی اور نکاسی ان کے پسندیدہ موضوع تھے۔

پروین رحمان ان دنوں شہر میں سرکاری زمینوں اور پارکوں پر قبضے پر بھی نظر رکھتی تھیں اور اس حوالے سے ان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی شائع ہو چکی ہے۔

شہر کی کچی آبادی اورنگی کے نکاسی آب کا نظام بنانے اور لوگوں کی مدد کرنے میں اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کا اہم کردار رہا ، جس کے سربراہ اختر حمید خان تھے اور پروین رحمان ان کی شاگرد تھیں۔

اسی بارے میں