’کراچی آپریشن میں 14 ہزار سے زائد ملزم گرفتار، 1172 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’گزشتہ دو سالوں میں رینجرز نے 6 ہزار سے زائد آپریشن کیے، جن میں ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں‘

کراچی میں پولیس اور رینجرز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شہر میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا اور وہ عناصر جو فرار ہوگئے ہیں یا روپوش ہیں انھیں بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کے دو سال مکمل ہونے پر پولیس اور رینجرز نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ شہر میں ستّر فیصد امن قائم ہوچکا ہے۔ رینجرز کے کرنل امجد کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان، لشکر جھنگوی کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے عسکری دھڑوں اور لیاری گینگ وار کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس لگاتار اور پرخلوص کارروائی کے باعث ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاون کی وارداتوں میں ساٹھ سے ستر فیصد کمی ہوچکی ہے۔

’گزشتہ دو سالوں میں رینجرز نے 6 ہزار سے زائد آپریشن کیے، جن میں ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، جن میں 913 دہشت گرد، 500 ٹارگٹ کلرز اور 347 بھتہ خور شامل ہیں ان گرفتار ملزمان میں سے 3,500 کو پولیس کے حوالے کیاگیا۔

ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کا کہنا تھا کہ ٹارگٹڈ آپریشن سے قبل روزانہ 10 سے 12 ہلاکتیں ہوتی تھیں جو اب کم ہوکر 4 سے 5 تک پہنچ چکی ہیں، تاہم موبائل فون کی چھینا جھپٹی اور موٹر سائیکل کی چوری کی روک تھام ابھی تک ایک چیلنج ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد کمی ہوئی ہے لیکن کالعدم تنظیموں کے سلیپرسیل ابھی تک موجود ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔

’دو سالوں میں 3,516 پولیس مقابلوں میں میں1,172 ملزمان ہلاک ہوئے جن میں 282 دہشت گرد، 38 اغوا کار، 10 بھتہ خور اور 842 ڈاکو شامل ہیں۔ جبکہ فائرنگ اور دھماکوں میں 232 پولیس اہلکار اور افسر ہلاک ہوئے۔

مشتاق مہر کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں پولیس نے 6,112 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں 1,798 قتل ، 803 دہشت گردی، 121 اغوا، 534 بھتہ خوری، 2,856 ڈکیتی کی واردات میں ملوث تھے ۔

انھوں نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث 90 فیصد ملزمان کو سزائیں ہو رہی ہیں جبکہ غیر قانون اسلحے سمیت دیگر چھوٹے مقدمات میں انھیںضمانت مل جاتی ہے اس میں جسٹس سسٹم میں کچھ خامیاں ہیں اور کچھ تفتیش میں بھی کمی رہی جاتی ہے جس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

Image caption ٹارگٹڈ آپریشن سے قبل روزانہ 10 سے 12 ہلاکتیں ہوتی تھیں جو اب کم ہوکر 4 سے 5 تک پہنچ چکی ہیں: پولیس

رینجرز کے ترجمان کرنل امجد نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں، انھیںمدد فراہم کرنے والوں اور حمایت کرنے والوں کے خلاف ہے اور انھیںجو اطلاع ملتی ہے اس کی جب تک تصدیق نہ ہو کارروائی نہیں کی جاتی۔

ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کا کہنا تھا کہ کہ 30 سے 35 فیصد ملزم انڈر گراونڈ یا روپوش ہوگئے ہیں یا ملک سے فرار ہوگئے ہیں لیکن آپریشن جاری رکھ کر انھیںقانون کی گرفت میں لایا جائے گا، اس کے علاوہ تھانوں میں بہتری لانے اور نفری میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر افتخار وہرہ، کورنگی سائیٹ ایسوسی ایشن کے صدر راشد صدیقی اور دیگر تاجر رہنماوں نے بھی آپریشن جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں اور تعیناتیاں نہ کی جائیں۔

مشتاق مہر کا کہنا تھا کہ کراچی میں 34 سے 35 ایسے چوک ہیں، جہاں موبائل فون چھیینے کی وارداتیں ہوتی ہیں اب ان چوکوں پر کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں اور ایک سینٹر بھی بنایا جا رہا ہے جس کے ساتھ خصوصی ٹیم ہوگی اس سے موبائل چھینے کی وارداتوں میں کافی قدر کمی ہوگی۔

اسی بارے میں