ن لیگ کے خلاف اپوزیشن اتحاد، واضح موقف نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اپوزیشن کی اِن جماعتوں میں پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، عوامی تحریک، مجلس وحدت المسلمین، جمعیت علمائے پاکستان اور سنی تحریک شامل ہیں

صوبہ پنجاب میں آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے جس بڑے اتحاد کی بات کی جا رہی تھی اس پر اب تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آ سکا۔

گذشتہ روز لاہور میں ہونے والے اپوزیشن جماعتوں کے ایک اجلاس کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے مشترکہ امیدوار کو میدان میں لایا جائے گا۔

اپوزیشن کی اِن جماعتوں میں پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، عوامی تحریک، مجلس وحدت المسلمین، جمعیت علمائے پاکستان اور سنی تحریک شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید چوہدری کا کہنا ہے کہ نظریاتی سوچ اور فکر اپنی جگہ لیکن بلدیاتی انتخابات میں نظریے کی بجائے بنیادی سطح پر عام لوگوں کے کام اور اُن کو درپیش مسائل کے سلسلے میں بات کی جاتی ہے۔

نوید چوہدری نے کہا کہ اگر آپ کو عوامی مسائل حل کر کے صورت حال کو بہتر کرنا ہے تو آپ کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے نہ کہ انفرادی سطح پر لڑنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت سرکاری مشینری اور فنڈز استعمال کرتی ہے اور پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اِس ناجائز مفاد کو ختم کرنے کے لیے آپس کی رسہ کشی ختم کی جائے۔

انھوں نے کہا کے ماضی میں بھی جنرل پرویز مشرف کے خلاف مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی میں اتحاد ہوا تھا، اُس وقت بھی ہمارے مسلم لیگ ن سے نظریاتی اختلافات موجود تھے اور اِس اتحاد کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے اور ہم نے ایک مضبوط حزبِ اختلاف کا کردار ادا کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ اُن کی جماعت کا دیگر جماعتوں سےصوبائی الیکشن کمشنروں کے استعفوں پر تو اتفاق رائے ہوا ہے لیکن کسی بھی امکانی اتحاد کی کوئی بات نہیں کی گئی۔

اعجاز چوہدری نے کہا کہ کسی ایک یا دو نکتوں پر تو کوئی باہمی موقف سامنے آ سکتا ہے، لیکن پاکستان کی سیاست اُس دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں مستقبل میں شاید ہی کوئی بڑا اتحاد سامنے آ ئے۔

ترجمان پنجاب حکومت اور مسلم لیگ ن کے رہنما زعیم قادری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا گٹھ جوڑ اِس بات کی دلیل ہے کہ عوام میں مسلم لیگ ن کو بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف جو بہت بلند بانگ دعوے کرتی تھی، آج اپنے نظریاتی مخالفین سے اتحاد کر کے اُن کی جماعت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں ان تمام جماعتوں کو شکست ہو گی اور مسلم لیگ ن کلین سویپ کرے گی۔

اسی بارے میں