کراچی میں سبین قتل کیس کے چشم دید گواہ فائرنگ سے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ The News
Image caption اپریل میں سبین محمود کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں مقتول سماجی ورکر سبین محمود کے ڈرائیور غلام عباس نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

وہ سبین محمود کی ہلاکت کے واقعے کی چشم دید گواہ بھی تھے۔

یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کو شہر کے علاقے کورنگی کراسنگ میں پیش آیا ہے۔

’اسماعیلیوں کی بس اور سبین محمود پر حملے کے منصوبہ ساز گرفتار‘

سماجی کارکن سبین محمود کے قتل کا مقدمہ درج

ایس ایچ او احمد شیخ کا کہنا ہے کہ غلام عباس نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی جس میں وہ ہلاک ہوگئے۔

غلام عباس اینٹی کرپشن پولیس میں کانسٹیبل تھے اور پارٹ ٹائم ڈرائیونگ کرتے تھے، جس روز سبین محمود کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا وہ گاڑی میں موجود تھے۔

ایس ایچ او احمد شیخ کا کہنا ہے کہ ان پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہے کہ ان پر حملے کی کیا وجہ بنی۔

یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ دو سالوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران غلام عباس کے علاوہ 232 پولیس اہلکار فائرنگ اور دھماکوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

غلام عباس سبین محمود قتل کیس کے چشم دید گواہ بھی تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت پریڈ میں بھی تصدیق ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غلام عباس سبین محمود قتل کیس کے چشم دید گواہ بھی تھے

مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ چند روز قبل دو لوگ آئے تھے انھوں نے سبین محمود کیس کے حوالے سے غلام عباس سے بات کی تھی۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں سبین محمود کو اس وقت کار پر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ گمشدہ بلوچ نوجوانوں افراد کے بارے میں ایک پروگرام میں شرکت کے بعد گھر جا رہی تھیں۔ اس فائرنگ میں ان کی والدہ زخمی ہوگئی تھیں۔

سبین محمود کے قتل کہ ایک ماہ کے بعد پولیس نے اسماعیلی برداری کی بس پر حملے کے الزام میں ملزمان طاہر حسین منہاس عرف سائیں عرف نذیر عرف زاہد، سعد عزیز عرف ٹن ٹن عرف جون، محمد اظہر عشرت عرف ماجد اور حافظ ناصر حسین عرف یاسر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

آئی بی اے سے فارغ التحصیل سعد عزیز کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسی نے سبین محمود کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔ حملے سے قبل وہ سبین محمود کی ادبی اور سیاسی بحث مباحثوں کے مرکز ٹی ٹو ایف کی ریکی کرتے تھے۔ پولیس نے ملزمان کا تعلق خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم سے ظاہر کیا تھا۔

اسی بارے میں