ڈی ایچ اے کا سرکاری آڈٹ کروایا جائے: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 18ویں آئینی ترمیم کے بعد آڈیٹر جنرل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام اداروں کا آڈٹ کریں: عدالت

سپریم کورٹ نے پاکستانی فوج کے رہائشی منصوبے، ڈیفنس ہاؤسنگ سکیم کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے آڈیٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں اس ادارے کے لاہور کے رہائشی منصوبے کا آڈٹ کریں۔

یہ حکم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ نے مختلف افراد کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں پر دیا۔

واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سپریم کورٹ نے فوج کے کسی رہائشی منصوبے کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے اداروں کا اندورنی آڈٹ ہوتا ہے اور اس آڈٹ کو عام نہیں کیا جاتا۔

ڈی ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے ادارے کا آڈٹ نہیں ہو سکتا اور وہ ان 19 اداروں میں شامل ہیں جن کا آڈٹ نہیں ہوا اور آئین کے تحت ان اداروں کو استثنیٰ حاصل ہے۔

عدالت نے اس پر کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد آڈیٹر جنرل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام اداروں کا آڈٹ کریں۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری کرنا تمام اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے تمام ادارے جو وفاقی اور صوبائی حکومت کے حکم سے تشکیل پاتے ہیں اُن کا اڈیٹر جنرل سے آڈٹ کروانا لازمی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈی ایچ اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا ادارہ قابل آڈٹ ہے، آپ آڈٹ کیوں نہیں کروا رہے؟

جس پر ڈی ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کا ادارہ اندرونی اور بیرونی طور پر ایک نجی کمپنی سے آڈٹ کرواتا ہے۔

چیف جسٹس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے پر جنرل آڈٹ اینڈ اکاؤنٹ پرنسپل لاگو ہوتا ہے، آپ کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے آڈٹ کروانا چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ جس ادارے کا حساب صاف ہو اسے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آڈیٹر جنرل آفس کی جانب سے مراسلہ جات بھی لکھے گئے ہیں لیکن اُنھیں بتایا گیا کہ اُن کے ادارے کو استثنیٰ حاصل ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان رانا اسد امین نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 170 کی شق دو کے تحت ڈی ایچ اے کے لیے آڈٹ کروانا لازم ہے۔

عدالت نے آڈیٹر جنرل کو حکم دیا کہ ایسے تمام اداروں کو نوٹس جاری کریں جو آڈٹ نہ کروا کر اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے۔

واضح رہے کہ لاہور میں ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی نے 90 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 156 کنال اراضی ایسے افراد سے خریدی تھی جو سرکاری ریکارڈ کے مطابق اُن کے نام پر نہیں تھی اور اس زمین سے متعلق لاہور کی مقامی عدالتوں نے سنہ 2004 میں اس زمین کو جہاں اور جیسے کی بنیاد پر رکھنے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں